Juraat:
2026-07-24@06:08:57 GMT

اساتذہ کو خراجِ تحسین

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

اساتذہ کو خراجِ تحسین

پروفیسر شاداب احمد صدیقی
5 اکتوبر عالمی یومِ اساتذہ 2025 دنیا بھر کے اساتذہ کی خدمات کو تسلیم کرنے اور ان کی قدردانی کا دن ہے ۔ یہ موقع اس بات کا جشن منانے کا ہے کہ اساتذہ کس طرح معاشرے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، طلبہ کو کامیابی کے لیے ضروری مہارتیں، علم اور اقدار فراہم کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ معیاری تعلیم کس قدر اہم ہے اور اسے یقینی بنانے میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ورلڈ ٹیچرز ڈے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو اپنی محنت اور لگن سے مستقبل کو سنوارتے ہیں، علم بانٹتے ہیں اور نئی نسل کے ذہنوں کو جِلا بخشتے ہیں۔ یہ عالمی دن اُن انمول خدمات کو تسلیم کرتا ہے جو اساتذہ نسل در نسل ادا کرتے آئے ہیں۔ اس دن کی ابتدا 1994 میں ہوئی جب یونیسکو نے اسے باضابطہ طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ 1966میں بین الاقوامی سطح پر طے پانے والے ILO/UNESCO Recommendation کو یاد دلایا جائے ، جس میں اساتذہ کے حقوق، فرائض اور پیشہ ورانہ تربیت کے اصول متعین کیے گئے تھے ۔ وقت کے ساتھ اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ دنیا کو یہ احساس ہونے لگا کہ اگر تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے استاد کو بااختیار اور باعزت بنانا ہوگا۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔
ہر سال اس دن کی ایک تھیم مقرر کی جاتی ہے جو تعلیمی چیلنجز اور اساتذہ کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے ۔ 2025کے لیے یونیسکو نے جو تھیم منتخب کی ہے وہ ہے : Recasting teaching as a collaborative profession۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تدریس کو ایک انفرادی ذمہ داری کے بجائے ایک اجتماعی اور باہمی تعاون پر مبنی پیشہ سمجھا جائے ۔ یعنی تعلیم صرف استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ کاوش ہے ، جس میں والدین، تعلیمی ادارے ، حکومتیں اور کمیونٹیز سب شریک ہیں۔ اس تھیم کے ذریعے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تعلیم میں تنوع، جدت اور اشتراک لازمی ہے ۔ یونیسکو کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 44 ملین اساتذہ مختلف تعلیمی سطحوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مزید 69ملین اساتذہ کی ضرورت ہے تاکہ 2030تک تعلیم سب کے لیے کے ہدف کو پورا کیا جا سکے ۔ اس کمی کی سب سے زیادہ شدت ترقی پزیر ممالک میں ہے جہاں نہ صرف تعلیمی وسائل کم ہیں بلکہ اساتذہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں استاد کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے ۔ فن لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا میں استاد کی عزت اتنی زیادہ ہے کہ معاشرہ انہیں قوم کی تعمیر کا ستون مانتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا تعلیمی نظام دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر فن لینڈ میں اساتذہ کو ڈاکٹروں اور وکلاء کے برابر سماجی حیثیت حاصل ہے اور ان کے لیے سخت انتخابی عمل رکھا جاتا ہے تاکہ صرف بہترین اور باصلاحیت افراد ہی تدریس کے شعبے میں داخل ہو سکیں۔ نتیجتاً وہاں کے تعلیمی نتائج دنیا کے دیگر ممالک سے نمایاں ہیں۔اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صورتحال مختلف ہے ۔ یہاں استاد کو عزت تو دی جاتی ہے لیکن عملی طور پر انہیں وہ مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور جو بچے اسکول جاتے ہیں وہاں اکثر اساتذہ کی کمی، ناکافی تربیت اور محدود وسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو اپنے تعلیمی اہداف پورے کرنے کے لیے کم از کم مزید 1.

4ملین اساتذہ درکار ہیں۔ مگر جب موجودہ اساتذہ کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، تربیتی پروگرام ناکافی ہیں اور انہیں محض ایک سرکاری ملازم سمجھا جاتا ہے تو نئی نسل کی تعلیم کا معیار کیسے بلند ہو سکتا ہے ؟اساتذہ کے مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے بڑھتے ہوئے تقاضوں نے استاد کے کردار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب استاد کو صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق، ماہر نفسیات اور ٹیکنالوجی کے ماہر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے ۔ یہ سب تقاضے تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب اساتذہ کو بھرپور تربیت، جدید سہولتیں اور پالیسی سطح پر حمایت فراہم کی جائے ۔یہ حقیقت بھی ہے کہ استاد کے بغیر کوئی تحریک یا انقلاب کامیاب نہیں ہوتا۔ استاد کو محض پیشہ ور نہیں بلکہ ایک نظریاتی معمار بھی کہا جاتا ہے ۔
پاکستان کے تناظر میں مسائل خاصے سنگین ہیں۔ دیہی علاقوں میں اکثر اسکول محض نام کے لیے قائم ہیں جہاں نہ استاد موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ شہری علاقوں میں اگرچہ اسکول موجود ہیں لیکن وہاں کلاس رومز کی تعداد کم اور طلبہ کی تعداد زیادہ ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک استاد کو بسا اوقات 60 سے 70 طلبہ کو پڑھانا پڑتا ہے جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے ۔ اس کے علاوہ استاد کو اکثر غیر تدریسی کاموں جیسے مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی یا دیگر سرکاری امور میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا اصل مقصد یعنی تعلیم متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت سندھ میں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت نے پنشن اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی پنشن اور مراعات میں کمی کر دی گئی ہے ۔اس لیے سندھ کے کئی شہروں میں تدریسی عمل رکا ہوا ہے اور تعلیمی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ اساتذہ نے درس گاہوں کی تالا بندی کر دی ہے۔ اساتذہ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے اور تعلیم کا حرج ہو رہا ہے مگر حکومت تاحال ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ۔اساتذہ کے عالمی دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب تک استاد کو اس کا مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں تب تک کسی قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ استاد کو صرف ایک سرکاری ملازم یا محدود کردار سمجھنے کے بجائے ایک قومی سرمایہ سمجھا جائے ۔ والدین اور طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ استاد کا احترام کریں اور انہیں وہ عزت دیں جو ان کا حق ہے ۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کی مثبت مثالوں کو اجاگر کرے تاکہ معاشرے میں استاد کے وقار کو بلند کیا جا سکے ۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک اساتذہ کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ سب سے پہلے تو اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شفاف بھرتی کا عمل اپنایا جائے تاکہ بہترین دماغ تدریس کے شعبے میں آئیں۔ دوسرا، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور بدلتے نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ تیسرا، اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بجائے پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکیں۔ چوتھا، اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے بچایا جائے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی تعلیم و تدریس پر توجہ دے سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں استاد کی عزت کو ایک عملی حقیقت بنایا جائے نہ کہ محض زبانی دعویٰ۔
یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے ۔ اگر ہم نے استاد کو نظر انداز کیا تو ہماری نسلیں اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی، لیکن اگر ہم نے استاد کو اس کا مقام دے دیا تو کوئی طاقت ہماری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، ادارے ، والدین اور طلبہ سب مل کر اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنے عظیم مشن کو پورے وقار کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام اور سب سے بڑی ضرورت ہے ۔سندھ حکومت اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے پر غور کرے تاکہ تعلیمی تسلسل برقرار رہے۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: میں اساتذہ اساتذہ کے اساتذہ کی ممالک میں نہیں بلکہ میں استاد جائے تاکہ اساتذہ کو مسائل کو ہیں بلکہ استاد کو جاتا ہے کے ساتھ ہیں اور کے لیے اور ان ہے اور

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا