باوقار قوم بننا ہے تو استاد کی عزت کی جائے، ڈاکٹر حسین محی الدین
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ٹیچرز ڈے کے موقع پر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنر منہاج یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ اساتذہ قوم کا فکری سرمایہ اور تعمیر ملت کے معمار ہیں، استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے،استاد وہ عظیم ہستی ہے جو جہالت کے اندھیروں میں علم کی شمع روشن کرتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور نئی نسل کو شعور و آگہی کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے صدر و ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا ہے کہ باوقار قوم بننا ہے تو استاد کی عزت کی جائے، استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے، استاد وہ عظیم ہستی ہے جو جہالت کے اندھیروں میں علم کی شمع روشن کرتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور نئی نسل کو شعور و آگہی کی دولت سے مالا مال کرتا ہے، کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے استاد کی عزت، تربیت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح نہ دے۔اساتذہ قوم کا فکری سرمایہ اور تعمیر ملت کے معمار ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر صدر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ لاہور اسامہ مشتاق کی قیادت میں طلبہ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مہر لطیف، محمد ابوبکر و دیگر طلبہ رہنما بھی موجود تھے۔ طلبہ رہنمائوں نے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو پھول پیش کئے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اساتذہ کی خدمات کو سراہیں، ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کریں اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کےلئے کوشش کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حسین محی الدین استاد کی عزت کرتا ہے علم کی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔