بغیر دستاویزات سفر کی ہرگز اجازت نہ دی جائے، غیر قانونی امیگریشن قطعا برداشت نہیں، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ضروری دستاویزات کے بغیر کسی بھی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہ دی جائے، غیر قانونی امیگریشن قطعا برداشت نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے لاہور ائرپورٹ کا اچانک دورہ کیا اور وزراء 2 گھنٹے تک ائرپورٹ پر موجود رہے، امیگریشن پراسیس کا مشاہدہ کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کاونٹرز پر رش دیکھ کر ناراضگی کا اظہارکیا اور پراسیس جلد نمٹانے کے احکامات دیئے۔
دونوں وزراء نے بیرون ممالک جانے والے مسافروں سے بات چیت کی اور امیگریشن پراسیس کے بارے پوچھا۔
وفاقی وزیر سالک حسین نے سفری دستاویزات پر پروٹیکر اسٹیکرز چیک کئے، پروٹیکر کے تحت ڈرائیور کی ملازمت کیلئے بیرون ملک جانے والے نوجوان کو ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر سفر سے روک دیا گیا۔
وفاقی وزیر سالک حسین نے اظہار برہمی کیا اور انکوائری کا حکم دیا۔
ایف آئی اے اہلکار کی مبینہ ملی بھگت سے بیرون ملک جانے والے مسافر کو امیگریشن عملےنے کاونٹر پر روک لیا، آف لوڈ مسافر کو نجی کمپنی کو ادا رقم واپس دلانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے دونوں نوجوانوں کو روکنے والے امیگریشن اہلکاروں کو بلا کر شاباش دی اور اپنی جیب سے انعام دیا، تعریفی سرٹیفکیٹس بھی دینے کا اعلان کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ضروری دستاویزات کے بغیر کسی بھی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہ دی جائے، غیر قانونی امیگریشن قطعا برداشت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے کسی مسافر کو سفر کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، ایف آئی اے یا کسی بھی ادارے کے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
سالک حسین نے کہا کہ پروٹیکر کے تحت مسافروں کی متعلقہ ملازمت کی مستند دستاویزات کی تصدیق ہر صورت کی جائے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سالک حسین نے وفاقی وزیر محسن نقوی مسافر کو سفر کی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔