حافظ نعیم کو یقین نہیں تو اڈیالہ آ کر عمران خان کا مؤقف سن لیں، پی ٹی آئی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف نے جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر پارٹی کی خاموشی سے متعلق الزام حقائق کے منافی ہے۔
تحریکِ انصاف کے ترجمان کے مطابق پارٹی نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف واضح مؤقف اپنایا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مختلف بیانات اور تحریری مؤقف پارٹی کے سرکاری پلیٹ فارمز پر موجود ہیں، جن میں اسرائیلی حملوں کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور عالمی ضمیر کی بیداری کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف اور جماعتِ اسلامی کی نئی لڑائی کیا ہے؟
بیان کے مطابق تحریکِ انصاف کا مؤقف بانیِ پاکستان محمد علی جناح اور چیئرمین عمران خان کے رہنما اصولوں کے عین مطابق ہے۔
پارٹی نے کہا کہ اگر حافظ نعیم الرحمان براہِ راست عمران خان کا مؤقف سننا چاہتے ہیں تو انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اڈیالہ جیل آ کر چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کریں اور ان کا وڈیو پیغام خود ریکارڈ کریں۔
ترجمان کے مطابق عمران خان متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ 2 ریاستی حل فراہم کیا جائے۔
مزید پڑھیں: امریکی منافقت ایک دفعہ پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے، حافظ نعیم الرحمان
’عمران خان کے مؤقف کے مطابق پاکستان کی پالیسی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام یکساں طور پر ظلم اور حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
تحریکِ انصاف نے یاد دلایا کہ حافظ نعیم الرحمان کی پی ٹی آئی ہاؤس اسلام آباد آمد کے دوران ان کی ملاقات قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم سے ہوئی تھی، جس میں جماعتِ اسلامی کے مؤقف کی حمایت اور مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے اظہارِ یکجہتی کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی کے حافظ نعیم الرّحمٰن میئر کراچی کے لیے بہترین امیدوار ہیں: عمران خان
پارٹی کے مطابق اب یہ کہنا کہ پی ٹی آئی نے جماعتِ اسلامی کی حمایت نہیں کی، ’غیر منصفانہ اور خلافِ حقیقت‘ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی عمران خان کو سیاسی قیدی تسلیم کرتا ہے تو اسے ان کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے فاصلہ پیدا کرنا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انتخابات کے بعد حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے صوبائی نشست چھوڑنا ایک مثبت اقدام تھا، تاہم کراچی کے میئر الیکشن میں پی ٹی آئی کے 32 چیئرمینوں کی غیر حاضری کو بنیاد بنا کر الزامات لگانا درست نہیں کیونکہ یہ صورتحال ’ریاستی دباؤ، دھمکیوں اور سیاسی انجینیئرنگ‘ کا نتیجہ تھی۔
مزید پڑھیں: جو جنگ ابھی لڑی گئی یہ 2019 میں ہونی چاہیے تھی، حافظ نعیم الرحمان
تحریکِ انصاف نے کہا کہ موجودہ حالات میں الزام تراشی کے بجائے قومی و امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عملی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
’پارٹی نے تمام دینی و سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کریں اور پاکستان میں ناانصافی، فسطائیت اور جمہوریت کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔‘
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ عمران خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ غزہ میں ہو، مقبوضہ کشمیر میں یا پاکستان میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل تحریک انصاف جمہوریت حافظ نعیم الرحمان شیخ وقاص اکرم عمران خان فسطائیت فلسطین کشمیر گوہر علی خان ناانصافی ویڈیو ریکارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل تحریک انصاف جمہوریت حافظ نعیم الرحمان شیخ وقاص اکرم فسطائیت فلسطین گوہر علی خان ناانصافی ویڈیو ریکارڈ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطابق
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔