ایران: خشک سالی سے نجات کے لیے ہزاروں شہریوں کی مساجد میں بارش کیلیے دعائیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی تہران میں ہزاروں افراد نے مسجد میں جمع ہوکر بارش کے لیے دعائیں کیں، کیونکہ ایران دہائیوں کی بدترین خشک سالی کا شکار ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ دارالحکومت میں اس سال بارش کا ریکارڈ ایک صدی میں سب سے کم رہا ہے، اور ایران کے نصف صوبوں میں مہینوں سے ایک قطرہ بھی بارش نہیں ہوئی۔
پانی کی کمی کے پیش نظر، حکومت نے تہران کی ایک کروڑ کی آبادی کے لیے پانی کی سپلائی کو وقفے وقفے سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ استعمال محدود کیا جا سکے۔
جمعہ کے روز مرد و خواتین ایرانی دارالحکومت کی امام زادہ صالح مسجد میں جمع ہوئے اور رب کے حضور بارش کے لیے خصوصی دعا کی۔
اسلامی روایت کے مطابق خواتین حجاب پہن کر مردوں سے الگ جگہ پر نماز پڑھ رہی تھیں۔
تہران، البرز پہاڑوں کی جنوبی ڈھلوانوں پر واقع ہے اور یہاں گرم و خشک موسم گرما کے بعد خزاں کی بارشیں اور سردیوں میں برفباری عام طور پر راحت پہنچاتی ہیں۔
پہاڑی چوٹیوں پر اس وقت تک عام طور پر برف جمی ہوتی ہے، لیکن اس سال وہ بھی خشک ہیں۔
تہران ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس کے باشندے روزانہ 30 لاکھ مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر سردیوں سے قبل بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
حکومت نے بعد میں وضاحت کی کہ پزشکیان صرف رہائشیوں کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اور کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کر رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے 5 بڑے ڈیموں میں سے ایک خالی ہے اور دوسرا اپنی گنجائش کے 8 فیصد سے بھی کم پر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔