ملک میں عدالتی نظام انصاف پر مبنی نہیں، ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں عدالتی نظام انصاف پر مبنی نہیں، ہم 27ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے ‘بدل دو نظام’ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نمائشی اقدامات کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کیا خواتین کو ٹھیکیداری نظام سے نجات ملی؟ کیا انہیں ملازمت کے حقوق فراہم کیے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہائبرڈ نظام کو تقویت ملی،حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچے بھٹوں پر کام کرتے ہیں، پنجاب میں جہاں بھی چلے جائیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ خواتین کو ملازمت کے حقوق حاصل نہیں، نہ انہیں محفوظ زندگی میسر ہے، اور نہ ہی ایسی ٹرانسپورٹ دستیاب ہے جس میں وہ باعزت طریقے سے سفر کر سکیں۔
اسلام میں خواتین کا مقام اور تعلیم کا حق
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارا دین معاشرے کے ہر فرد بشمول خواتین کو تعلیم کا حق دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت سے پہلے عرب معاشرے میں خواتین کی منڈیاں لگتی تھیں اور خرید و فروخت ہوتی تھی، اور ایسے درندہ صفت لوگ بھی موجود تھے جو بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔
لاہور: گریٹر اقبال پارک میں جماعت اسلامی کا تین روزہ "بدل دو نظام " اجتماع عام شروع، ہزاروں افراد شریک
موجودہ نظام عوام کو ریلیف نہیں دے سکتا، ظلم کا یہ نظام اب مزید نہیں چل سکے گا، سازشوں یا فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئیں گے: حافظ نعیم pic.
— QOMINEWS (@QOMINEWS) November 21, 2025
انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو تعلیم کا حق دیا، جو لوگ خواتین سے یہ حق چھینتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں۔ اگر کسی کو تعلیمی نظام سے اختلاف ہے تو وہ بات کرسکتا ہے، مگر خواتین کو تعلیم سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لاکھ 20 ہزار تک ماہانہ آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہونی چاہیے، حافظ نعیم الرحمان
امیرِ جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں انصاف پر مبنی نظام موجود نہیں۔ ہم 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔ ہائیکورٹس میں لاکھوں کیسز زیر التوا ہیں، عوام کو دہائیوں تک انصاف نہیں ملتا۔ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زیادہ کیسز زیر التوا ہیں۔
تعلیم کی صورتِ حال اور یکساں نظام کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم ہونا چاہیے۔ ملک کے ہر بچے کو پڑھانا ہوگا اور سب کو برابری کے حقوق دینا ہوں گے۔ ملک میں پونے 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ صرف 12 فیصد بچے یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں۔
خواتین کی وراثت اور جماعت اسلامی کے پروگرامز
انہوں نے کہا کہ خواتین کو وراثت میں حصہ ملنا چاہیے۔ جماعت اسلامی ‘بنو قابل’ پروگرام کے تحت خواتین کے لیے دسمبر میں فری آئی ٹی اسکالرشپ پروگرام شروع کر رہی ہے، جس میں خواتین گھر بیٹھے کورسز کر سکیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بنو قابل’ پروگرام میں 12 لاکھ رجسٹریشن ہوچکی ہیں، جن میں 4 سے 5 لاکھ نوجوان بچیاں شامل ہیں۔ بہت سی بچیوں نے ٹیسٹ دیے، پاس ہوئیں اور اپنے کام بھی شروع کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہندوتوا کے ماننے والے کبھی مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل نہیں کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
غزہ میں اسرائیلی مظالم کے ذکر پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ میں تقریباً 80 ہزار افراد شہید ہوئے ہیں۔ اب تو ملبے کے ڈھیر سے بھی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں، اور ان 80 ہزار میں سے 70 فیصد بچے اور خواتین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغرب ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خواتین کو برابر کے حقوق دیتا ہے، مگر دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ نیتن یاہو نے ایسے ہتھیار مانگے جن کے بارے میں وہ جانتا بھی نہیں تھا، اور اس نے وہ ہتھیار مہیا کیے جنہیں نیتن یاہو نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے دیے گئے ہتھیار غزہ کے بچوں اور خواتین پر استعمال ہوئے، انہیں تباہ کیا گیا، اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وہ کیسا امن کا دعوے دار ہے جو خواتین اور بچیوں کا قتل عام کرواتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی اور اسے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کی بات کی۔ یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیراعظم کو ایسی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خواتین کو کو تعلیم کرتے ہیں ملک میں کے حقوق کے لیے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن