پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری ’نورا کشتی‘ محض وقتی تماشا ہے جو چند روز میں ختم ہو جائے گی، موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر غور کیا جا سکتا ہے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شراکت عمران خان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اسد قیصر بھی عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دینے کی رائے دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ اگر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے اور کوئی جماعت نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تو بہتر راستہ فوری عام انتخابات کا انعقاد ہے۔

انہوں نے تسلیم کیاکہ ماضی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کے انتخاب پر پارٹی کے اندر مختلف آرا تھیں، مگر اب وہ معاملہ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ان کے بقول بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کا مؤقف ہے کہ ملک اس وقت ہمہ گیر عوامی تحریک کا متقاضی ہے۔ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی قوت ہے مگر ہمارے اتحادی رہنماؤں کا اپنا سیاسی ماضی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کا ذاتی انتخاب ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے توشہ خانہ ٹو کیس کے حوالے سے کہا کہ جو بھی سزا سنائی جائے گی، وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی کیونکہ ماضی کی طرح یہ مقدمہ بھی سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔

پشاور جلسے میں بدنظمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پارٹی کے سامنے رکھی جائے گی، لہٰذا اس وقت اس پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔

علیمہ خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں پیغام رسانی سے محض سیکیورٹی خدشات کے باعث روکا ہے کیونکہ ان پر متعدد مقدمات درج ہیں اور کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر علیمہ خان نہیں پہنچ سکیں تو دوسری بہن کے ذریعے عمران خان کے پیغامات ہم تک پہنچیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اپنے گھر پر توجہ دے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی جلد ختم ہو جائےگی، خواجہ آصف

ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل ٹرائل کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا مقصد بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کو تنہا کرنا تھا، تاہم ہم نے واٹس ایپ ٹرائل کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔ آخرکار پنجاب حکومت نے دباؤ میں آکر جیل ٹرائل بحال کرنے کا فیصلہ کیا، جو درست قدم تھا کیونکہ بانی کو الگ تھلگ کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز پی ٹی آئی عمران خان تحریک عدم اعتماد سلمان اکرم راجا حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی پی ٹی ا ئی پارٹی کے انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت