اسرائیل نے عرب و مسلم رہنماؤں کی پیش کردہ تجاویز میں تبدیلیاں کردیں، قطر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قطر نے کہا ہے کہ اسرائیل نے عرب و مسلم رہنماؤں کی پیش کردہ تجاویز میں تبدیلیاں کیں، امریکا کو دی گئی تجاویز میں ترمیم کی گئی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری وزارت خارجہ نے بتایا کہ عرب و مسلم رہنماؤں کی جانب سے امریکا کو دی گئی تجاویز میں اسرائیل نے ترمیم کی، کچھ نکات اسرائیل نے شامل کیے جبکہ بعض کو نظرانداز کیا گیا، قطر بطور ثالث تمام فریقوں کےلیے قابل قبول حل کی کوششیں کررہا ہے۔
ترجمان قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جنگ بندی کےلیے عزم کی تعریف کرتے ہیں، ہم سب اس جنگ کے خاتمے اور غزہ میں نسل کشی روکنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں
قطر نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کےلیے تمام فریق معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں، مصر میں جاری مذاکرات میں 4 گھنٹے طویل اور تفصیلی گفتگو ہوئی، مذاکرات میں رکاوٹوں اور اختلافی نکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قیدیوں کے تبادلے اور امداد کی فراہمی جیسے معاملات پر اتفاق رائے درکار ہے، مذاکرات جاری ہیں اور تمام فریق معاہدے کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی کارروائیاں روک دینی چاہیے تھیں، اسرائیل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق رک جانا چاہیے تھا، غزہ کا مستقبل فلسطینیوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔
قطری وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ کسی بیرونی فریق کو غزہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں، فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔
ترجمان ماجدالانصاری نے کہا کہ ہم جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے نتائج کے منتظر ہیں، اسرائیلی حکومت سے پوچھا جانا چاہیے وہ قابض قوت ہے، اسرائیلی وزیراعظم سنجیدہ ہے تو غزہ پر بمباری روک دینی چاہیے۔
قطری وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ حماس کے مستقبل پر بات کرنا قبل ازوقت ہے، غزہ کی تعمیرنو کےلیے بین الاقوامی حمایت درکار ہوگی۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی تقدیر کے تعین کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، غیرملکی طاقتوں کو غزہ کے معاملات پر قابض نہیں ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل نے تجاویز میں نے کہا کہ
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔