وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ایک دن بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے، صوبہ برباد کردیا، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کو ان کا اندرونی مسئلہ قرار دیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی میں علامہ ناصر عباس یا محمود اچکزئی کی نامزدگی کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ آپ تبصرہ کرسکتے ہیں کہ ان کی پارٹی میں کوئی اہل نہیں تھا یا ان کے اپنے لوگوں پر ان کے لیڈر کا اعتماد نہیں تھا لیکن محمود اچکزئی ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کو 4 گھنٹے میں ہرا دیا، دہشتگردی کو 40 سال میں شکست کیوں نہیں دی جا سکی؟ مولانا فضل الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پی ٹی آئی کا اندرونی مسئلہ ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں کہا کہ ان کو ایک دن بھی اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے کیوں کہ انہوں نے صوبے کو تباہ کردیا ہے، ان کی وجہ سے صوبے کے مفادات کو نقصان ہورہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن رہنما پی ٹی آئی قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن رہنما پی ٹی ا ئی قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔