ذرائع کے مطابق جہاد اسلامی فلسطین کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے عسکری لحاظ سے انوکھی کارروائی میں غزہ شہر کے النصر محلے میں ایک مخدوش عمارت کو دھماکے سے اڑایا، جس پر صیہونی فوج پہلے ہی بمباری کر چکی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ جہاد اسلامی فلسطین کے عسکری ونگ نے غزہ شہر میں حملہ آور صہیونی افواج کے خلاف مجاہدین کے کامیاب آپریشن کی تفصیلات کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں قابض حکومت کے ایک فوجی دستے کے تمام ارکان ہلاک ہوگئے۔
مقاومتی ذرائع کے مطابق جہاد اسلامی فلسطین کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے عسکری لحاظ سے انوکھی کارروائی میں غزہ شہر کے النصر محلے میں ایک مخدوش عمارت کو دھماکے سے اڑایا، جس پر صیہونی فوج پہلے ہی بمباری کر چکی تھی، دھماکے کے بعد صہیونی فوج کا ایک دستہ وہاں پہنچا۔ عمارت میں دھماکے کے بعد اس طرف آنے والے آئی ڈی ایف کے انجینئرنگ دستے کی نقل و حرکت پر ڈرون سے نظر رکھی گئی۔ اس آپریشن کے نتیجے میں صہیونی حکومت کی فوج کے اس یونٹ کے تمام ارکان ہلاک ہوگئے۔ اس آپریشن کے بعد دشمن نے جائے حادثہ کو فضائی جارحیت کا نشانہ بنایا۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن