جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کا فلسطین سے متعلق حالیہ یکطرفہ معاہدے کی حمایت قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن سے متصادم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے قائمقام امیر صابر حسین اعوان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور فلسطین میں قیام امن کے لئے پیش کئے گئے 20 نکاتی امن فارمولے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ 65 ہزار سے زائد نہتے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام میں ملوث اسرائیل کے کسی بھی متنازعہ فیصلے یا تجویز کی قطعاً حمایت نہ کی جائے کیونکہ حالیہ معاہدے میں فلسطین کی اصل فریق حماس کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے اور فلسطین سے متعلق امریکہ سمیت کسی بھی حارجہ قوت کے یکطرفہ فیصلے کو پاکستانی قوم قطعاً قبول نہیں کریں گی۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے قائمقام امیر صابر حسین اعوان نے مرکز اسلامی پشاور میں کل پاکستان اجتماعِ عام کے سلسلے میں منصوبہ بندی اور اہداف کی تقسیم کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں قائم مقام صوبائی جنرل سیکرٹری سہیل احمد بابر راہی، نائب امرائے صوبہ مولانا ہدایت اللہ، سید صہیب الدین کاکاخیل، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا حنیف اللہ، امیر ضلع چارسدہ شاہ حسین ایڈوکیٹ سمیت اضلاع جنرل سیکرٹریز، ضلعی ناظمین، معاونینِ مالیات اور اضلاع کے دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں غزہ کی موجودہ صورتِحال کے حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی طرف سے معصوم فلسطینیوں کی نسل کُشی کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ ان دو سالوں میں غاصب اور دہشت گرد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہزاروں نہتے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ 20 نکاتی معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیلی جارحیت کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں غزہ کی اصل فریق حماس کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، جس سے اس امن معاہدے کی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جماعت اسلامی فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کو بھی مسترد کرتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس معاہدے کی تائید انتہائی شرمناک ہے۔ حکومتِ پاکستان کا حالیہ موقف یا دو ریاستی حل کی تجویز پاکستان کے عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی کیونکہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے پہلے ہی دن سے اسرائیل سے متعلق جو موقف اپنایا ہے حکومت پاکستان کا حالیہ اقدام اس کے منافی ہے۔ فلسطین کے لیے کسی بھی فیصلے کا اختیار صرف غزہ کے عوام اور حماس کو ہے۔ حکومتِ پاکستان ان کے موقف کی تائید اور حمایت کرے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہم غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کی مکمل تائید و حمایت کا اظہار کرتے ہیں اور اقوامِ متحدہ و حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ غاصب اور دہشت گرد ریاست کی طرف سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء اور سینیٹر مشتاق احمد خان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔جس نے پاکستانی قوم کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی طرف سے کرتے ہیں گیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم