مشکل میں امریکا نے ہماری وہ مدد نہیں کی جو چین نے کی: عبدالغفور حیدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
جے یو آئی کے رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ امریکا اہم ہے لیکن ہمیں یاد ہے کہ کسی بھی مشکل میں امریکا نے ہماری وہ مدد نہیں کی جو چین نے کی۔
جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الغفور حیدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ دوستی ماضی میں بھی ہمیں مہنگی پڑی ہے۔ حکمران اگر امریکا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو رفتہ رفتہ چلیں۔ میٹھی باتوں میں پھر سے پاکستان کو استعمال نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور بھارت کے در پردہ ہاتھ نہ ہوں تو بہت جگہ حالات اچھے ہوتے، امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے خطے کے امن کی تباہی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اور سعودی معاہدے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ماضی میں بھی کہا کہ امت مسلمہ یکجا ہو کر دفاعی اور جدید ٹیکنالوجی کے معاہدے کرے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی اس حوالے سے ماضی میں بڑی کوشش رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ سمجھتے ہیں کہ اس دفاعی معاہدے کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، خواہش ہے کہ دنیا کے باقی مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں، کسی بھی مسلم ملک پر حملہ ہو تو مل کر مقابلہ کیا جائے۔ اسرائیل نے فلسطین میں بربریت اور قتل عام کر رکھا ہے۔
جے یو آئی کے رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیل اگر جنگ بندی پر آمادہ ہوا ہے تو اس میں اس معاہدے کی ہی اہمیت ہے۔ ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک معاہدے میں شامل ہوں تو یہ زیادہ مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں 60 فیصد مسلمان رہائش پذیر ہیں۔ چین اس علاقے کی بہتری کے لیے 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعادہ رکھتا ہے۔ اگر چین اس صوبے کو ترقی کے لیے ترجیح دے رہا ہے تو پاکستان کو بھی کرنا چاہیے، پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔
مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے حالات کی بہتری کے لیے وفاق سے بھی کچھ اقدامات نہیں ہو رہے، تفتان کا سفر سنگل شاہراہ پر کرنا پڑتا ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں حادثات بھی ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔