امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے خطے میں امن کی تباہی ہوگی، مولانا عبدالغفور حیدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
کراچی:
جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے کہ امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے خطے میں امن کی تباہی ہوگی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ امریکا اہم ہے لیکن ہمیں یاد ہے کہ کسی بھی مشکل میں امریکا نے ہماری وہ مدد نہیں کی جو چین نے کی، امریکا کے ساتھ دوستی ماضی میں بھی ہمیں مہنگی پڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران اگر امریکا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو رفتہ رفتہ چلیں، میٹھی باتوں میں پھر سے پاکستان کو استعمال نہ کیا جائے، اگر امریکا اور بھارت کے در پردہ ہاتھ نہ ہو تو بہت جگہ حالات اچھے ہوتے، پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔
رہنما جے یو آئی نے مزید کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، چین کے صوبے سنکیانگ میں 60 فیصد مسلمان رہائش پذیر ہیں، چین اس علاقے کی بہتری کے لیے 80 ارب ڈالر خرچنے کا اعادہ رکھتا ہے، اگر چین اس صوبے کو ترقی کے لیے ترجیح دے رہا ہے تو پاکستان کو بھی کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی بہتری کے لیے وفاق سے بھی کچھ اقدامات نہیں ہو رہے، تفتان تک کا سفر سنگل شاہراہ پر کرنا پڑتا ہے جس کے باعث بہت ایکسڈنٹ بھی ہوتے ہیں۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان سعودی عرب معاہدے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ہم نے ماضی میں بھی کہا کہ امت مسلمہ یکجا ہو کر دفاعی اور جدید ٹیکنالوجی کے معاہدے کریں، مولانا فضل الرحمن کی اس حوالے سے ماضی میں بڑی کوشش رہی، ہم سمجھتے ہیں کہ اس دفاعی معاہدے کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہونگے، ہماری خواہش ہے کہ دنیا کے باقی مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں تاکہ کسی بھی مسلم ملک پر حملہ ہو تو مل کر مقابلہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک چھوٹی سی ریاست ہے مگر اس نے فلسطین میں بربریت اور قتل عام کر رکھا ہے، اسرائیل اگر جنگ بندی پر آمادہ ہوا ہے تو اس میں اس معاہدے کی ہی اہمیت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں تو یہ زیادہ مضبوط ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔