data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ :۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر حماس کی سیاسی قیادت نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کچھ شقوں پر ترمیم کا مطالبہ کیا ہے، تاہم عسکری قیادت کا جنگ جاری رکھنے پر اصرار ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق حماس کے ایک سینئر سیاسی رہنما نے ہمارے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کو مسترد کر دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ اسرائیل کے مفادات کو ضرور پورا کرتا ہے لیکن فلسطینی عوام کے مفادات کو نظر انداز کرتا ہے۔ حماس کی سیاسی قیادت کو امن منصوبے کے تحت غزہ میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی اور غیر مسلح ہونے کی شقوں پر بھی شدید تحفظات ہیں۔

حماس رہنما نے کہا کہ امریکی منصوبے میں کئی مبہم نکات ہیں جن میں اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ امن منصوبہ دراصل ٹرمپ کے سیاسی فائدے کے لیے بنایا گیا۔ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کسی نہ کسی بہانے کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔

دوسری جانب تاحال غزہ میں مقیم حماس کے اعلیٰ ترین ملٹری کمانڈر عزالدین الحداد ٹرمپ کی تجویز کو قبول کرنے کے بجائے جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم حماس کی سیاسی قیادت کو حال ہی میں اندرونی مذاکرات سے دور کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کا یرغمالیوں پر براہ راست کنٹرول نہیں رہا ہے۔

ادھر سعودی اخبار اشرق الاوسط نے رپورٹ کیا کہ عزالدین الحداد نے اپنا پیغام بیرون ملک مقیم حماس کی سیاسی قیادت تک پہنچا دیا ہے۔

دوسری جانب مذاکرات میں شامل اسرائیلی حکام توقع کرتے ہیں کہ حماس کا ردعمل روایتی “ہاں” اور “لیکن” کی شرط کے ساتھ ہوگا، یعنی نہ مکمل اقرار اور نہ مکمل انکار۔ دیکھنا یہ ہے کہ قطر میں مقیم حماس کی سیاسی قیادت کی امن منصوبے کی شقوں میں ترمیم کے لیے مذاکرات کے عندیہ اور غزہ میں مقیم عسکری کمانڈر کے جنگ جاری رکھنے کے عزم میں کون، کس پر حاوی ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فورسز سے دوبدو لڑتے ہوئے شہید ہونے والے رہنما یحییٰ السنوار کے بعد اب سپہ سالار عزالدین الحداد ہیں جو تاحال غزہ میں ہی مقیم ہیں۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حماس کی سیاسی قیادت جاری رکھنے

پڑھیں:

ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پارلیمنٹ لاجز کی توسیع اور اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کے لیے اضافی رہائش گاہوں کی تعمیر کی غرض سے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں سرکاری دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس ترقیاتی منصوبے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر جی فائیو ٹو میں رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس منصوبے کا مرکزی حصہ اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر ہے، جس میں 500 کے قریب سرونٹ کوارٹرز بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ عوامی نمائندوں کی رہائشی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 7 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ حکومتی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ 30 جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔  یہ منصوبہ پارلیمنٹ لاجز کی موجودہ گنجائش میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنے گا۔

علاوہ ازیں موجودہ پارلیمنٹ لاجز سے ملحقہ اراکین کے لیے 104 فیملی سوٹس پہلے ہی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ان سوٹس کی تعمیر کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے اور اس وقت وہاں فنشنگ کا کام تیزی سے جاری ہے، جس سے ممبران کو فوری رہائشی سہولت میسر ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار