چینی بحران، حکومت نے شوگر ملز کو کلین چٹ اور ذمہ داری موسم پر ڈال دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ چینی بحران پر حکومتی انکوائری رپورٹ میں شوگر ملز کو کلین چٹ دے دی گئی، ملک میں چینی کے بحران کی ذمہ داری موسمی حالات سے گنے کی پیداوار میں کمی پر ڈال دی گئی، شوگر ایڈوائزری بورڈ کو بھی قیمتوں میں اضافے سے بری الذمہ قرار دیدیا گیا۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی دستاویزات کے مطابق ملک میں چینی کے حالیہ بحران اور قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت نے شوگر ملز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو کلین چٹ دے کر بری الزمہ قرار دے دیا اورچینی کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری موسمی حالات اور فصلوں کی بیماریوں پر ڈال دی ہے۔
دستاویزات کے مطابق چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوںکے باعث نہیں ہواہے بلکہ چینی کی پیداوار میں کمی فطری عوامل کی وجہ سے تھی جو انسانی قابو سے باہر ہیں، وزارتی دستاویز ات کے مطابق کسی فرد یا ادارے کو کم پیداوار یا قیمتوں کے بحران کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
دستاویزات کے مطابق حکومت اب چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے کر جا رہی ہے اوراس فیصلے کا مقصد طلب، رسد اور قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے، حکومت موجودہ درآمدی عمل شوگر ملز کو شامل کیے بغیر براہ راست کر رہی ہے اوراضافی چینی کی برآمد کی تفصیلات پارلیمنٹ میں بھی پیش کی گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق اضافی چینی کی برآمد کا فیصلہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سفارشات پر کیا گیا، یہ فیصلہ 13 جون 2024 سے اکتوبر 2024 تک چار مراحل میں کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق چینی کے اضافی ذخائر کی وجہ سے برآمد کا فیصلہ ہوا تھا تاہم موسمی حالات، شدید گرمی اور بیماری کی وجہ سے فصلیں متاثر ہوئیں، اور بیماری اور موسمی حالات کی بنا پر گنے کی پیداوار تخمینے سے تقریباً 1 ملین میٹرک ٹن کم رہی جس کے باعث ملکی سطح پر چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ جس پر تاحال قابو نہ پایا جاسکاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دستاویزات کے مطابق موسمی حالات قیمتوں میں شوگر ملز چینی کے چینی کی
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا،شہری رُل گئے۔اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔پیر کو کےالیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ترجمان کراچی واٹرکارپوریشن کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔ترجمان کےالیکٹرک کے مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔