data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی مشن گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک پاکستانی نوجوان سید محمد عزیز الدین اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔

پاکستان آمد کے موقع پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور درجنوں کارکنان نے ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم اور لاہور کے امیر ضیاالدین انصاری نے انہیں ’’قوم کا فخر‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

عزیز الدین کے مطابق فلوٹیلا میں 44 کشتیوں پر مشتمل قافلہ شامل تھا، جو غزہ کے مظلوم عوام کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر جا رہا تھا۔ ان کی کشتی میں بچوں کے لیے خشک دودھ، ادویات اور پینے کا صاف پانی موجود تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے قافلے پر ڈرونز اور واٹر کینن سے حملے کیے اور 43 کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا، تاہم عزیز الدین کی تیز رفتار موٹر بوٹ برطانیہ، ترکیہ اور ملائیشیا کے 22 رضاکاروں کے ساتھ اسرائیلی محاصرہ توڑ کر تیونس پہنچنے میں کامیاب رہی۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرونز کئی دنوں تک ان کی کشتی کا تعاقب کرتے رہے، مگر انہوں نے حکمتِ عملی کے تحت رات کے اندھیرے میں سمت بدل کر محاصرہ توڑا۔ بعد ازاں وہ قبرص کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جہاں بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے ان کا خیر مقدم کیا۔

یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا اسپین سے روانہ ہوا تھا، جس میں دنیا بھر کے 500 سے زائد کارکنان، سیاست دان، اور انسانی حقوق کے نمائندے شریک تھے۔ ان میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔

سید محمد عزیز الدین ایک معروف سماجی کارکن اور دینی استاد ہیں، جو پاکستان میں بھی فلاحی منصوبوں میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے وطن واپسی پر کہا کہ فلسطین کا درد میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ہم نے جو کچھ کر سکتے تھے، وہ کیا  اور جب تک ایک بھی بچہ غزہ میں بھوکا ہے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عزیز الدین انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم