دنیا اسرائیلی بربریت کیخلاف متحد ہو جائے، بولیویا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
غزہ کو امداد پہنچانے کیلئے روانہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بولیویا کے صدر نے قابض اسرائیلی رژیم کی بربریت کیخلاف پوری دنیا کے متحد ہو جانیکا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ بولیویا کے صدر لوئس البرٹو آرس کاتاکورا نے غزہ کو امداد پہنچانے کے لئے روانہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر قابض اسرائیلی رژیم کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں لوئس البرٹو آرس کاتاکورا کا کہنا تھا کہ ہم صمود فلوٹیلا کے خلاف حالیہ گھنٹوں میں انجام پانے والے وحشیانہ اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جبکہ تشدد کا یہ عمل، نیتن یاہو کے حکم سے انجام دیا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کی بھی توہین ہے۔
المیادین کے مطابق بولیویا کے صدر نے تاکید کی کہ ہم محاصرے، بھوک، قبضے اور نسل کشی کا شکار لوگوں کے خلاف، دنیا بھر کی آنکھوں کے سامنے انجام پانے والی سفاک نیتن یاہو کی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بولیویا کے صدر نے تاکید کی کہ ہم عالمی برادری، کثیرالجہتی تنظیموں اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی اسرائیل کی اس نئی بربریت کی مذمت کریں اور اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔ بولیویا کے صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی جرائم پر خاموشی، ان جرائم میں شراکت ہے لہذا، آج، انسانیت کو، کسی بھی زمانے سے بڑھ کر، انصاف اور زندگی کے ساتھ آ کھڑا ہونا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی شدید مذمت
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔