تنازعات کے باوجود بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاک بھارت میچوں کو لازمی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سیاسی کشیدگی کے باوجود بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کو جاری رکھنا عالمی کرکٹ ایونٹس کے لیے اسپانسرز کی توجہ برقرار رکھنے کا لازمی ذریعہ قرار دے دیا گیا۔
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، تاہم بھارت اور پاکستان کا آمنا سامنا بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے تجارتی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ تنازع، اب جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی کیسے ملے گی؟
یہ بیان سابق انگلش کرکٹر مائیکل ایتھرٹن کی اس تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو مشورہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان میچز اس وقت تک محدود رکھے جائیں جب تک سیاسی حالات میں بہتری نہیں آتی۔
مائیکل ایتھرٹن نے دی ٹائمز میں اپنے کالم میں لکھا کہ اگر کبھی کرکٹ سفارت کاری کا ذریعہ تھی تو اب یہ سیاسی تنازعات اور پروپیگنڈے کا ہتھیار بن چکی ہے۔ کھیل کو تجارتی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنا کسی طور درست نہیں، اور جب یہ روایتی رقابت معاشی فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہو تو اس کی کوئی اخلاقی توجیہ باقی نہیں رہتی۔
انہوں نے مزید کہاکہ آئندہ نشریاتی حقوق کے معاہدوں کے لیے آئی سی سی کو شفاف طریقے سے فکسچر تیار کرنے چاہییں، اور اگر دونوں ٹیمیں ہر ایونٹ میں آمنے سامنے نہیں آتیں تو اسے قبول کیا جانا چاہیے۔
ایتھرٹن کے تبصروں کا پس منظر حالیہ ایشیا کپ تنازع ہے، جہاں پاکستان اور بھارت تین بار آمنے سامنے آئے۔ تینوں میچوں میں بھارت نے کامیابی حاصل کی، مگر میچوں کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر تنقید کی گئی۔ انہوں نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے بھی گریز کیا۔
ایتھرٹن کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے کہاکہ یہ باتیں کہنا آسان ہیں لیکن عملی طور پر ممکن نہیں۔
ان کے بقول آپ تجویز تو دے سکتے ہیں، مگر کیا اسپانسرز اور براڈکاسٹرز اس پر راضی ہوں گے؟ آج کے تجارتی دور میں اگر کوئی بڑی ٹیم ٹورنامنٹ سے ہٹ جائے تو اسپانسرز کو راغب کرنا قریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
سال 2025 کے دوران پاکستان اور بھارت 4 بار ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے۔ پہلے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں اور پھر ایشیا کپ کے تین مقابلوں میں۔ دونوں ٹیمیں اب اگلے برس یعنی 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی آمنے سامنے ہوں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ سیریز کئی برسوں سے معطل ہیں، اور ان کا آمنا سامنا صرف آئی سی سی اور اے سی سی کے زیرِ اہتمام کثیرالجہتی ٹورنامنٹس تک محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار جب دونوں ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں تو دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین کی توجہ حاصل کرتی ہیں، جس سے نشریاتی اداروں اور اسپانسرز کو زبردست تجارتی فائدہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کس منہ سے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلے گا، اسدالدین اویسی نے سوال اٹھا دیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ 2026 کا ٹی20 ورلڈ کپ بھارت میں ہوگا، لیکن پاکستان اپنی میزبانی کی شرائط کے مطابق اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا، کیونکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین پر نہ کھیلنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی سی سی بی سی سی آئی پاکستان بھارت میچ سیاسی کشیدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بھارت میچ سیاسی کشیدگی وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔