پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، چچا بھتیجی کی لڑائی میں پی پی کو نہ گھسیٹیں: پلوشہ خان
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، چچا بھتیجی کی لڑائی میں پی پی کو نہ گھسیٹیں: پلوشہ خان WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا ہیکہ جھگڑا پنجاب اور وفاق کا ہے، لڑائی بھتیجی اور چچا کی ہے ، اس کا پیپلزپارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں، پنجاب حکومت کو شہباز شریف وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھے پسند نہیں، یہ گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور شہباز شریف اور دیگر کے عہدے صدر زرداری کی وجہ سے ہی ہیں، شہباز شریف کو صدر زرداری نے ہی وزارت عظمی کے لیے نامزد کیا، آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹ سے ہی حکومت میں آئے ہیں۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے اتحادی ہیں غلام نہیں ہیں، اپنے گھر کی لڑائی ہمارے گلے نہ ڈالیں، پیپلز پارٹی کے پاس تمام صوبوں میں مینڈیٹ ہے، پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں ہے، پنجاب حکومت پر اگر تنقید ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تنقید پنجاب پر ہو رہی ہے، مسلم لیگ ن پنجاب نہیں ہے۔
پلوشہ خان نے کہا کہ آپ اپنے اوپر آنے والی تنقید کو پنجاب کے عوام کے گلے نہ ڈالیں، جس نے جو کام کیاہے سہرا اسی کیسر جائیگا، ہم نے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کو کبھی ذریعہ نہیں بنایا، بی آئی ایس پی کے تحت مدد کرنے پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ آپ سوالات کے جوابات دینے کے عادی بنیں، ہم آپ سے پوچھ سکتے ہیں سی سی ڈی کیا فورس ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہوائی فائرنگ سے نہیں ڈرتی، نہ ملک چھوڑ کربھاگنے والی ہے، ہم چاہتے نہیں کہ اس لہجے میں جواب دیں جس لہجے میں آپ بات کر رہیہیں، یاد رکھیے، آپ کو پھر بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی ضرورت پڑیگی، یہ وقت مجھے دور نظرنہیں آرہا، عوام کے دل جیتنیکے لیے تصاویر کی نہیں کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے، ہم تجاویز دیتے رہیں گے، آپ پنجاب میں مارشل لا ڈکٹیٹر بننے کی کوشش نہ کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کا مقابلہ، امریکی محکمہ دفاع نے نیکسٹ جنریشن جنگی طیارے کی منظوری دے دی چین کا مقابلہ، امریکی محکمہ دفاع نے نیکسٹ جنریشن جنگی طیارے کی منظوری دے دی وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا، دفتر خارجہ نے21 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور، ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان این پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پلوشہ خان کی لڑائی کا کہنا
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز