آزاد کشمیر کی کشیدہ صورت حال پر لیاقت بلوچ کا محسن نقوی سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251002-08-28
اسلام آباد( نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بدھ کے روز آزاد کشمیر کی کشیدہ صورت حال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے رابطہ کیا، آزاد کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنی تشویش سے انہیں آگاہ کیا۔ محسن نقوی سے ٹیلی فونک رابطے میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورت حال خراب ہے۔ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ قیمتی جانوں کے نقصان پر سخت تشویش ہے، آزاد کشمیر کی صورت حال کشیدہ ہے اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیر داخلہ سے بات چیت میں انہوں نے کشمیر کی صورت حال پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا کہ چند روز قبل حکومتی کمیٹی نے آزاد کشمیر جا کر مذاکرات بھی کئے تھے مگر حکومتی کمیٹی کے ارکان مسئلے کو حل کر سکے اور نہ لوگوں کو مطمئن۔ انہوں نے کہا کہ اس کشیدہ صورت حال میں وزارت داخلہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم پاکستان جو آزاد جموں و کشمیر کونسل کے چیئرمین بھی ہیں کو آزاد کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے۔ آزاد کشمیر میں طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ انصاف کی بنیاد پر معاملہ حل کیا جائے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ آزاد کشمیر کی صورت حال پر جمعرات کو اسلام آباد میں اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں غور کیا جائے گا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حل کے لیے کیا کردار ادا کیا جائے۔ لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیر داخلہ سے ٹیلیفونک رابطے سے قبل جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر مشتاق خان سے بھی رابطہ کر کے صورت حال سے آگاہی حاصل کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر کی صورت حال لیاقت بلوچ نے صورت حال پر وزیر داخلہ کیا جائے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔