آزاد کشمیر صورتحال پر تشویش، معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں، سید صلاح الدین
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفر آباد:۔ حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ عوامی مسائل اور معاملات باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں، طاقت آزمائی، توڑ پھوڑ اور کشت و خون سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے پریس کے نام جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ میں عدم استحکام اور انتشاری صورت حال تحریک آزادی کشمیر کی پیش رفت اور کامیابی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ تحریک دشمن عناصر اور قابض سامراج اس تکلیف دہ صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سید صلاح الدین احمد نے ارباب اختیار اور عوامی ایکشن کمیٹی سے دردمندانہ اپیل کی کہ بیس کیمپ کی حساسیت اور جاری تحریک آزادی کی پشتیبانی کے لیے اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاملات و مطالبات کو ہٹ دھرمی کے بجائے درد دل اور جذبہ حب الوطنی سے حل کیا جائے۔ ملتِ مظلومہ جموں و کشمیر کو ایک مستحکم اور مضبوط بیس کیمپ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔
چیئرمین جہاد کونسل نے توقع ظاہر کی کہ دونوں فریقین عقل و دانش کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو اس صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے اور افہام و تفہیم سے مسائل کے حل میں کامیاب ہوں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سید صلاح الدین
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔