اسلام آباد کے کونسے راستے بند کون سے کھلے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
محمد اویس: اسلام آباد میں ممکنہ سکیورٹی صورتحال/راستوں کی بندش، ریڈ زون کا سرینا،ایوب چوک نادرا،ایکسپریس چوک ڈی چوک سے انٹری بندمارگلہ روڈ سے ریڈ زون جانے والا راستہ کھلا ہے۔
تفصیلات کےمطابق سہروردی روڈ سرینا چوک سے آبپارہ چوک تک بند ہے، جناح اسکوائر فلائی اوور تا سرینا انٹرچینج تک بند ہے، شاہرہ دستور سرینا چوک سے مکمل طور پر بند ہے۔
کورین والا فلائی اوور کشمیر چوک اور راول ڈیم سے سنگل گاڑی کے داخلے کی اجازات ہے، زیرو پوائنٹ سے کھنہ اور پھر کورال چوک تک اوپن ہے ٹریفک کے لیے، سنگجانی جی ٹی روڈ سنگل لائن چل رہی ہے ٹریفک کی۔
سیمنٹ سستاہوگیا
سری نگر ہائی وے چونگی نمبر 26 تا چاند تارا فلائی اوور ڈبل لائن ٹریفک ان آؤٹ کے لیے کھلا ہے، سری نگر ہائی وے جی 14 ناکہ ڈبل لائن ٹریفک کے لیے اوپن ہے۔
زیرو پوائنٹ پر چاروں لوپس سنگل ان آؤٹ کے لیے اوپن ہے، کاک پل ایکسپریس وے سنگل گاڑی ان آؤٹ کے لیے اوپن ہے۔
آغا نرسری سے ڈھوک کالا خان فلائی اوور کے لیے ڈائیورشن دی گئی ہے، مارگلہ روڈ، جناح ایونیو، 7th ایونیو، 9th ایونیو، لیاقت روڈ مکمل اوپن ہیں۔
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
ایران ایونیو تا مارگلہ روڈ ٹریفک کے لیے کھلا ہے، جی ٹی روڈ، مارگلہ سے ای 11 فلائی اوور تک مکمل طور پر اوپن ہے۔
پارک روڈ،مری روڈ، فیض آباد سے راول ڈیم فلائی اوور تک اوپن ہے، فیض احمد فیض روڈ، ناظم الدین روڈ، فضل حق روڈ تمام تر ٹریفک کے لیے اوپن ہے۔
.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک کے لیے فلائی اوور
پڑھیں:
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کر دیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کر دیا۔
رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے، لیکن ملاقات نہ ہونے پر وہ علیمہ خان اور وکلا کے ہمراہ چیف جسٹس کے سیکرٹری آفس سے واپس روانہ ہوگئے۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ ہم سے نہیں مل سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج نہ قومی اسمبلی اجلاس ہوگا نہ سینیٹ اجلاس، اور آئندہ منگل کو ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج جاری رہے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بھی تصدیق کی کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کسی وکیل یا ایڈووکیٹ جنرل سے ملاقات کی گئی۔