گلوبل صمود فلوٹیلا نے پاکستانی حکمرانوں کے چہرے بے نقاب کیے،حافظ غیور
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-2-7
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی ٹنڈوجام حافظ غیور احمد نے کہا ہے گلوبل صمود فلو ٹیلا نے پاکستان میں موجود اسرائیل اور امریکہ کے حماتیوں کے چہرے سے نقاب اتار کر رکھ دیئے ہیں تحریک انصاف امریکہ سے اقتدار کی آس لگا کر بیٹھی ہے یہ کبھی بھی امریکہ کی مذمت نہیں کرے گی جواد احمد تانگا پارٹی رکھتے تھے اسرائیل کی حمایت کے بعد اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے یہ بات انھوں نے فلسطین پر اجتماع پر خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی پاکستان میں مسلمانوں کے حق کی طاقتور جماعت جماعت اسلامی ہے جماعت اسلامی کے رہنما سینٹر مشتاق احمد نے جب گلوبل صمود فلوٹیلا لے کر فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کی امداد کے لیے سفر کیا تو امریکی اور اسرائیل نواز پارٹیوں کی چیخیں نکل گئی تانگا پارٹی کے جواد احمد نے جب اسرائیل کے لیے بات کی اور مشتاق احمد خلاف بات کی تو پورے پاکستان کے ساتھ اس کی تانگا پارٹی بھی انجام کو پہنچ گئی انھوں نے تحریک انصاف کے چہرے سے بھی نقاب اتر چکا ہے امریکی کی مخالفت میں بیان دینے سے ان کی جان نکلتی ہے یہ ٹرمپ سے اقتدار کی آس لگا کر بیٹھے ہیں حقیقت یہ ہی ہے کہ مسلم لیگ پیپلزپارٹی اور تحریک انساف ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں انھیں عوام اور مسلمانوں سے زیادہ امریکی مفادات کی فکر ہے اور اسی کے لیے کام کر رہے عوام اب ان کی حقیقت جان چکی ہے انھوں نے کہا جماعت اسلامی اُمت کی اُمیدوں کا مرکز ہے اجتماع سے ناظم شہر کونسلر طاہر اسامہ سابق امیر اور ناظم مظفرآباد اور غیریب آباد کو نسلر عبدالحمید شیخ جنرل سیکرٹری پروفیسر طارق راجپوت پروفیسر حماد علی بہادر نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انھوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔