محکمہ صحت بلوچستان نے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کو برخاست کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایت پر عملدرآمد عرصہ دراز سے غیر حاضر ملازمین کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ صحت بلوچستان نے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 27 ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر دیا۔ ترجمان کے مطابق محکمہ صحت نے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ میں عرصہ دراز سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں ضلع کوہلو سے 20، دکی سے دو، موسیٰ خیل سے ایک جبکہ آواران سے چار ملازمین کو سرکاری ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ برخاست ہونے والے ملازمین طویل عرصے سے سرکاری ملازمت سے غیر حاضر تھے، جبکہ انہیں متعدد بار ملازمت پر حاضر ہونے کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ تاہم مسلسل غیر حاضری کی بنا پر ان کے خلاف بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں سرکاری ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بلوچستان بھر میں غیر حاضر ملازمین کے خلاف کسی بھی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برخاست کر دیا ملازمت سے کے خلاف
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔