اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ آج ایک بار پھر ہزاروں مظاہرین دارالحکومت تل ابیب میں جمع ہو گئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
تل ابیب کے “ہاسٹیجز اسکوائر” پر جمع ہونے والے مظاہرین نے یرغمالیوں کی فوری رہائی اور غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امن، جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔
شرکاء نے دو سال سے یرغمالیوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی عملی قدم نہ اٹھانے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر امن بحال کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔