صنم جاوید کی گرفتاری پر خیبرپختونخوا حکومت پوزیشن واضح کرے، جنید اکبر کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر نے پارٹی رہنما صنم جاوید کی گرفتاری پر خیبرپختونخوا حکومت سے پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کردیا۔
اپنے ایک بیان میں جنید اکبر نے کہاکہ صوبے میں پی ٹی آئی کارکن خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو فوری طور پر بتانا چاہیے کہ صنم جاوید کی گرفتاری کے پس منظر میں اصل صورتحال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کے پشاور سے مبینہ اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج
انہوں نے مطالبہ کیاکہ آئی جی خیبرپختونخوا کو اسمبلی میں طلب کیا جائے تاکہ وہ اس معاملے کی وضاحت کریں۔
یاد رہے کہ پشاور میں ایک خاتون وکیل نے آفیسرز میس کے قریب پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق مصروف شاہراہ پر صنم جاوید کی گاڑی روکی گئی اور 5 افراد زبردستی انہیں اپنے ہمراہ لے گئے۔
وزیراعلیٰ کے ترجمان فراز مغل کے مطابق علی امین گنڈاپور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے گزشتہ رات بتایا تھا کہ صنم جاوید کو پشاور سے اٹھا لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سے گرفتار ہوئیں یا اغوا؟
صنم جاوید کا شمار پی ٹی آئی کے متحرک کارکنوں میں ہوتا ہے، وہ 9 مئی واقعات کے بعد لمبے عرصے تک قید کاٹ چکی ہیں، اور اس وقت بھی ان پر مقدمات چل رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جنید اکبر صنم جاوید گرفتاری علی امین گنڈاپور مطالبہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنید اکبر صنم جاوید گرفتاری علی امین گنڈاپور مطالبہ وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز صنم جاوید کی جنید اکبر پی ٹی آئی
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔