پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس نے پی ٹی آئی کی خاتون کارکن کے مبینہ اغواء سے متعلق تفتیش شروع کردی، تفتیشی ٹیم نے واقعے کی جگہ کا معائنہ کیا، ٹیم نے سول آفیسرز میس کے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی کی خاتون کارکن صنم جاوید کے مبینہ اغوا کے معاملہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس نے صنم جاوید کے مبینہ اغواء سے متعلق تفتیش شروع کردی، تفتیشی ٹیم نے واقعے کی جگہ کا معائنہ کیا، ٹیم نے سول آفیسرز میس کے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول کیلئے متعلقہ ادارے سے درخواست کردی، سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے پر کیس میں پیش رفت کا امکان ہے، تفتیشی ٹیم نے مقدمہ درج کرنے والی صنم جاوید کی خاتون دوست کا بیان بھی قلمبند کیا۔ علاوہ ازیں ذرائع نے مزید بتایا کہ مدعی خاتون وکیل نے آفیسرز میس کے سامنے سے صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صنم جاوید کے مبینہ ٹیم نے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔