مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ نے حکومت کے کرتوت بے نقاب کر دیے ہیں، اور اب وفاقی حکومت کی حقیقت اور اس کی حیثیت سامنے آ گئی ہے۔ ان کے مطابق، ستائسویں ترمیم نے بھی عالمی سطح پر حکومت کے معاملات کو بے نقاب کیا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ بانیِ پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر غیرقانونی پابندی عائد کرکے آئین کے آرٹیکل 10 اور 14 کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانیِ پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، حالانکہ قانون کے مطابق ہر قیدی کو ہفتے میں ملاقات کا حق حاصل ہوتا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی اور بانیِ پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور اس کے ساتھ ہی صوبائی وزیرِ اعلیٰ کو بھی متعدد بار ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پورے خیبرپختونخوا کے عوام کی تذلیل ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو بانی پی ٹی آئی سے خوف ہے، اسی لیے ان کی قانونی ملاقاتوں کو روکا جا رہا ہے تاکہ وہ پارٹی سے دور نہ ہو جائیں اور کسی بھی احتجاج کی کال نہ دیں۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت نے غاصب گوروں سے بھی زیادہ ظلم ڈھایا ہے اور سیاسی مخالفین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو دو سال سے طلب کیا جا رہا ہے مگر ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں۔ اس کے برعکس، پنجاب میں ایسے افراد کو میڈیا پر لایا جا رہا ہے جنہیں محلے والے تک نہیں جانتے، مگر حقیقت میں منتخب نمائندوں کی آواز کو میڈیا پر جگہ نہیں دی جا رہی۔
آئی ایم ایف رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بین الاقوامی ادارہ خود حکومت کے کرتوت سامنے لا رہا ہے۔ انہوں نے رپورٹ میں 5.

3 کھرب کی کرپشن، عدالتی نظام کی کمزوریوں، لاکھوں مقدمات کے زیر التوا ہونے اور اداروں کے اختیارات میں ٹکراؤ کی نشاندہی کی ہے، جو ان کے مطابق، حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آئی ایم ایف رپورٹ کے نکات کا جائزہ لیں اور حکومت کے کرتوت کا حساب لیا جائے۔
شیخ وقاص اکرم نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انتشار کی ذمہ دار حکومت خود ہے اور اس کے اس رویے سے ملک میں مزید سیاسی بحران جنم لے رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم نے ا ئی ایم ایف پی ٹی ا ئی جا رہا ہے کے مطابق انہوں نے کہا کہ جا رہی

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق