کوئٹہ، لاش کی حوالگی پر رقم کا مطالبہ، ہسپتال انتظامیہ کی پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال ڈاکٹر ہادی کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکہ میں جانبحق ہونیوالے افراد کی لاش کیلئے ایدھی کے رضاکار نے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا۔ محکمہ صحت واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہادی کاکڑ کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال میں لاشوں کی حوالگی پر پیسوں کا مطالبہ ایک رضاکار نے کیا تھا جس کو متعلقہ فلاحی تنظیم نے ادارے سے فارغ کیا ہے۔ لاشوں کی حوالگی سے متعلق پیسے لینے کے الزامات محکمہ صحت اور ہسپتال عملے پر لگائے گئے لیکن انکوائری میں کوئی بھی طبی عملہ ملوث نہیں پایا گیا۔ سول ہسپتال انتظامیہ ہسپتال کی حد تک فلاحی تنظیموں کی امور کی انجام دہی کے حوالے سے ایس اوپیز بنا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے سول ہسپتال میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ میں افسوسناک واقعے کے بعد لاشوں کی حوالگی کے دوران مبینہ طور پر لواحقین سے رقم لینے کا واقعہ سامنے آنے پر محکمہ صحت بلوچستان نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد دو لاشوں کے باپ بیٹے کے طور پر شناخت کے بعد ان کے لواحقین ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان سے لاشوں کی حوالگی کے لیے پیسے وصول کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں ایدھی فانڈیشن کا ایک رضاکار ملوث پایا گیا، جس نے پیسے لینے کا اعتراف کیا ہے۔ اس رضاکار کے غیراخلاقی عمل کے باعث محکمہ صحت پر ناحق الزامات لگائے گئے، حالانکہ صحت عملے کا کام صرف فارنزک تصدیق اور قانونی کارروائی میں پولیس کی معاونت تک محدود تھا۔ ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے کہا کہ ایدھی فانڈیشن کی خدمات قابل ستائش ہیں، لیکن کسی ایک فرد کے غلط عمل کی وجہ سے پوری فاؤنڈیشن کو بدنام کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایدھی فانڈیشن کی صرف سول ہسپتال میں سروسز وقتی طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور آئندہ تمام فلاحی تنظیموں کے لیے جامع ایس او پیز وضع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک افسوسناک سانحے کے بعد لواحقین سے پیسے لینا صحت کے بنیادی اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔ ایسے اہلکار یا معاونین جو بھی ملوث پائے گئے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاشوں کی حوالگی سول ہسپتال نے کہا کہ انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔