ادویات کی ہوشربا قیمتیں عام آدمی کیلیے علاج کو دشوار بنا رہی ہیں، شمسہ مہ جبین
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر )صدائے انسانیت سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن شمسہ مہ جبین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ادویات کی ہوشربا قیمتیں عام آدمی کے لیے علاج کو دشوار بنا رہی ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ بنیادی علاج کی سہولیات تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بڑھتی ہوئی فیسیں اور غیر ضروری اخراجات عوام کی کمائی کو نگل رہے ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں عدم توجہی اور وسائل کی کمی کے باعث مریضوں کو بنیادی علاج کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔شمسہ مہ جبین نے کہا کہ اس صورتحال میں نہ صرف عوام کی زندگیوں پر خطرہ بڑھ رہا ہے بلکہ ملک میں صحت کے بنیادی نظام کا اعتماد بھی کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، پرائیویٹ ہسپتالوں میں شفافیت لائی جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے عوام کو بھی اپیل کی کہ اپنی صحت کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکومتی اداروں سے رجوع کریں تاکہ ہر شہری کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہسپتالوں میں
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔