Jasarat News:
2026-07-24@05:38:55 GMT

قوم کو پانچواں مارشل لا بہت بہت مبارک

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251122-03-4
نعمان طارق انصاری
اس بد نصیب قوم کے لیے 27 ویں ترمیم کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے اور عملًا یہ پانچواں مارشل لا ہی ہے جس نے قوم کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب قوم کو اس نئے نظام کے تحت زندگی گزارنے کی عادت ڈال لینی چاہیے اب طاقت کے مراکز ایک مہاراجا کے روپ میں سامنے آئے ہیں اور ان کے دربار میں سارے سیاستدان ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے ہیں یہ وہ سیاستدان ہیں جن کو سیاستدان کہنا بھی اس لفظ کی توہین ہے، ان کی مثال قصائی کی دکان پر موجود اس چار پیروں والے جانور کی ہے جو ہڈی اور چھیچڑوں کا ہمہ وقت منتظر رہتا ہے رہ گئے مذہبی رہنما ان کی مثال ان طوائفوں کی ہے جن کو پیسہ دے کے جیسے چاہے نچوا لو اور ہر طرح سے داد عیش وصول کر لو اور عوام کا یہ احمقانہ خواب جس میں پولیس رینجرز اور فوج اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرے کرچی کرچی ہو گیا ہے اور عوام خصوصاً کراچی کے عوام کی یہ حالت ہے کہ قوم کی اکثریت منہ میں گٹکا یا ماوا بھر کے ایک ہاتھ میں گیس کا سلنڈر اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا گیلن لے کر روڈوں پر رواں دواں ہیں اور ان کے بچوں کا مستقبل یہ ہے کہ یا تو چنگ چی رکشہ چلائیں یا فنگر چپس بیچیں یا پھر کمپنیوں میں معمولی نوکری کے لیے دھکے کھاتے پھریں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے البتہ ارباب اختیار اوہ ! سوری مہاراجا اور ان کی ٹیم کو ایک عظیم پریشانی ضرور ہے کہ تحریک لبیک کو ٹھکانے لگا دیا پی ٹی آئی کو سائیڈ پہ کر دیا بلکہ وہ تو خود خوشی سے بکنے کے لیے تیار ہو گئے، اب جماعت اسلامی کو کیسے قابو کریں کون سا بہانہ بنا کر ان پر ہاتھ ڈالا جائے ان پر پابندی لگائی جائے تاکہ یورپ اور امریکا اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ ان کا جانی دشمن ہمارے قابو میں ا ٓچکا ہے۔ جماعت اسلامی کے جلسوں میں کوئی گملہ بھی نہیں ٹوٹتا تو توڑ پھوڑ کا الزام کیسے لگایا جائے؟ ان کے لوگ تو کرپشن میں ملوث بھی نہیں ہوتے تو پھر کیس کیسے بنایا جائے؟ ان کی جماعت کے امیر کواگر بہانہ بنا کر گرفتار بھی کیا جائے تو یہ دوسرا امیر بنا دیں گے دوسرے کو گرفتار کیا جائے تو یہ تیسرا بنا دیں گے دس امیر گرفتار کیے جائیں گے تو یہ گیارواں بنا دیں گے پھر اب ہم کیا پلاننگ کریں؟

ان کی جماعت کے نام کو استعمال کرنے سے روکا جائے یہ نئے نام کے سامنے آ جائیں گے۔ ان سے تو ایوب خان جیسا آمر بھی عاجز آگیا تھا یہ تو دہشت گردی میں بھی ملوث نہیں ہے ان پر الزام کیسے لگائیں یہ تو بیرونی فنڈنگ میں بھی ملوث نہیں ہیں ان کے تو بیرون ملک رابطے بھی نہیں ہیں ان کے بڑے بڑے لوگوں کے زیادہ تر کرائے کے مکانات ہیں یہ تو بیرون ملک اثاثے بھی نہیں بناتے ہیں بلکہ ان کے کارکنوں کے اپنے محنت کے پیسے خود دیگر کارکنوں کی خاطر تواضع میں ہی خرچ ہوتے ہیں یہ تو پیٹرول بھی اپنے پیسوں سے ڈلواتے ہیں یار آخر ان کا ہم کیا کریں؟ یہودی لابی پریشان ہے سیکولر لابی گہری سوچ میں گم ہے قادیانیوں کے سر چکرا رہے ہیں روشن خیال بیوروکریٹس جام پہ جام خالی کیے جا رہے ہیں لیکن مسئلے کا حل نہیں آرہا ہے آخر کیا کریں؟ ہم تو پیسے سے بڑے بڑے پھنے خانوں کو خرید لیتے ہیں لیکن جب جماعت اسلامی کے کسی شخص کے پاس 10 کروڑ روپے لے کے جاتے ہیں تو وہ اس بریف کیس کو ایک زوردار لات رسید کر کے ہم کو کمرے سے باہر نکال دیتا ہے اور سب سے پہلے اپنے امیر کو خبر کرتا ہے کہ اس کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگلے دن ہمارے خلاف پریس کانفرنس ہو جاتی ہے، پھر آخر کیا کریں؟ ہم مہاراجا اور ان کی ٹیم اب ٹھیک طرح سے یہ بات سن لے کہ جماعت اسلامی کہ امیر سے لے کے کارکنان تک لوہے کے چنے ہیں چباؤ گے تو دانت ٹوٹ جائیں گے یہ ملک اسلام کے نام پہ بنا تھا اسلام کے نام پہ قربانی دی گئی تھیں اسلام کے نام پہ پوری پوری خون آلود ٹرینوں میں شہداء کی لاشیں یہ گواہی دے رہی تھیں کہ یہ اسلامی پاکستان بنے اس وقت کے حکمرانوں نے قادیانی سیکولر لابی کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان کے شہدا سے وہ عظیم غداری کی ہے جس کی تاریخ اسلام میں مثال نہیں ملتی یہاں تک کہ ملک دو ٹکڑے کر دیا گیا لیکن کسی کو مجال کوئی فرق پڑا ہو لیکن اب ایسا نہیں چلے گا اب ایسا نہیں ہوگا عوام کو اب یقین ا ٓجانا چاہیے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ربّ العزت کی ہے اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے اور عوام کو جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے جمع ہو جانا چاہیے اور ایک عظیم تحریک کا اغاز کرنا چاہیے اور جس کا نتیجہ اسلامی نظام کی صورت میں برامد ہوگا اور اس نظام میں ہر طرف عدل و انصاف امن و امان کا دور دورہ ہوگا امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا میرٹ کا نظام ہوگا لیکن اس کے لیے اسلامی نظام کے لیے اپنی نسلوں کی بقا اور ان کے تحفظ کے لیے عوام کو جماعت اسلامی کے ساتھ ایک عظیم الشان تحریک کا آغاز کرنا ہوگا اور کامیابی یقینا آپ کے قدم چومے گی۔ بنگلا دیشی عوام سے سبق سیکھیے کہ اب وہاں پر حقیقی انقلاب ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ایسا مغربی پاکستان میں بھی ضرور ہوگا شرط صرف عوام کے متحد ہو کر جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کی ہے یہ کام عوام کے کرنے کا ہے اور اس کے بعد کا کام جماعت اسلامی کے کرنے کا ہے اور عوام اگر اب بھی ہماری باتوں پہ دھیان نہیں دیں گے تو پانچواں مارشل لا اس کو بہت بہت مبارک ہو اس لیے عوام کو اس شعر کی مانند ہونا چاہیے پھر بات بنے گی۔ نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر؍ تو شاہی ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔ یاد رکھیے شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ چڑیاں اگر متحد ہو جائیں تو ہاتھی کی کھال بھی کھینچ سکتی ہیں تو پھر ہمت مرداں مدد خدا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے بھی نہیں اور عوام عوام کو دیں گے کے نام ہے اور کے لیے اور ان

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار