کشمیر کو پہلگام حملے سے پہلے کی حالت میں واپس آنے میں وقت لگے گا، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیراعلٰی نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے نے جموں و کشمیر کی سیاحت کی صنعت کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، تاہم وزیراعلٰی نے امید ظاہر کی کہ معاملات اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے کہا کہ جی ایس ٹی کی شرح پر نظرثانی سے اس مالی سال میں ریاست کی ٹیکس وصولی میں 1,000 کروڑ روپے تک کی کمی متوقع ہے۔ آج سرینگر میں FICCI کی قومی ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس اہم موضوع پر غور و فکر کے لئے جموں و کشمیر کو منتخب کرنے پر FICCI کی تعریف کی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ صرف جی ایس ٹی کی شرح پر نظرثانی سے ہماری آمدنی میں 9 سو سے ہزار کروڑ کی کمی ہوجائے گی اور جموں و کشمیر جیسی ریاست کے لئے، جو پہلے ہی خسارے میں ہے، یہ بہت بڑی رقم ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے نے جموں و کشمیر کی سیاحت کی صنعت کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، تاہم وزیراعلٰی نے امید ظاہر کی کہ معاملات اب مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو پہلگام دہشت گردانہ حملے سے پہلے والی ریاست میں واپس کرنے میں وقت اور کافی کوشش درکار ہوگی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ 2025ء کے موسم گرما میں شدید بارشوں کی وجہ سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جولائی سے ستمبر تک جموں و کشمیر میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی زراعت اور باغبانی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معیشت کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جب جموں و کشمیر میں حالات اچھے ہوتے ہیں تو بہت اچھے ہوتے ہیں اور جب خراب ہوتے ہیں تو خوفناک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا "میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم اس وقت سب سے نچلے مقام پر ہیں، لیکن ہم اس سال کے شروع میں اس کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن اب مجھے یقین ہے کہ صورتحال مثبت ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے کہا کہ ہوتے ہیں
پڑھیں:
ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں میں میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر ہندو انتہا پسندوں کا احتجاج جاری
بی جے پی سمیت متعدد ہندو تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کرکے انہیں کسی اور ادارے میں داخلہ دینے، نیز اس ادارے میں ہندو طلبہ کیلئے داخلوں کو مخصوص رکھنے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر جموں میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند روز قبل بجرنگ دل کے بعد آج شیوسینا ڈوگرا فرنٹ نے بھی جموں کے رانی پارک علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے "ہندو کالج" کو ہندو طلبہ کے لئے مخصوص رکھنے اور مسلم طلبہ کا داخلہ کسی اور میڈیکل کالج میں کرانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کر رہے ڈوگرہ فرنٹ کے کارکنان نے مظاہرے کے دوران ایل جی انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ تنظیم کے صدر اشوک گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہندو مذہبی بورڈ، شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا یونیورسٹی کے زیر انتظام چلایا جا رہا ہے، اس لئے جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس اگزامینیشن کا مسلم طلبہ کو یہاں داخلہ دینے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔
جموں میں گزشتہ کئی روز سے اس معاملے پر احتجاج جاری ہے اور بی جے پی سمیت متعدد ہندو تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کرکے انہیں کسی اور ادارے میں داخلہ دینے، نیز اس ادارے میں ہندو طلبہ کے لئے داخلوں کو مخصوص رکھنے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سخت گیر ہندو تنظیموں کے رہنماؤں نے ایل جی دفتر میں ایک یادداشت بھی پیش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اکتوبر میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں کل 50 میں سے 42 نشستوں پر مسلم طلبہ کے داخلے کے بعد یہ تنازع شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر داخلوں کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج مزید سخت کیا جائے گا۔ ادھر جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان داخلوں کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ (اہلیت) کی بنیاد پر دئے گئے ہیں اور کالج نے کبھی بھی "اقلیتی ادارہ" (Minority Institute) ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق جب ویشنو دیوی یونیورسٹی کا بل اسمبلی نے منظور کیا تھا، تب کہاں لکھا تھا کہ ایک مذہب کے بچوں کو (اس ادارے سے) باہر رکھا جائے گا۔