گھوٹکی: میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکریٹری طفیل رند کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سندھ کے ضلع گھوٹکی میں میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری طفیل رند قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طفیل رند بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی، طفیل رند پر میر پور ماتھیلو کے علاقے جروار روڈ مسو واہ پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس نے کہا کہ فائرنگ سے طفیل رند جاں بحق ہو گئے، ان کے جسد خاکی کو ڈی ایچ کیو اسپتال میرپورماتھیلو منتقل کر دیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن اور وزیر داخلہ سندھ نے گھوٹکی میں صحافی طفیل رند کے قتل پر اظہارِ افسوس کیا۔
اپنے ایک جاری بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صحافیوں پر حملے آزادیٔ صحافت پر حملے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ
قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ طفیل رند کے قتل کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں، انہوں نے صحافی طفیل رند کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نےصحافی طفیل رند کے قتل کی مذمت کی اور قاتلانہ حملے میں ان کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحافی طفیل رند پر قاتلانہ حملہ ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے ، سندھ حکومت مقتول صحافی طفیل رند کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا جو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ ہوں، وزیر اعلٰی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی رپورٹ طلب کر لی ہے،
واقعے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے بھی ڈی آئی جی سکھر سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ ملزمان کو ہر صورت میں گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے-
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں، انہوں نے بھی طفیل رند کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ
طفیل رند کے قاتلوں کو گرفتار کرکے صحافی برادری کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔