بیان میں جموں و کشمیر کو غلط طور پر بھارت کا حصہ قرار دینے کا حوالہ دیا گیا ہے جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق اور علاقے کی قانونی حیثیت سے متصادم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قانونی ماہرین نے نئی دہلی میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ جاری ایک مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں و کشمیر کو بھارت کے اٹوٹ انگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، گمراہ کن اور کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان نئی دہلی میں ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ بیان میں جموں و کشمیر کو غلط طور پر بھارت کا حصہ قرار دینے کا حوالہ دیا گیا ہے جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق اور علاقے کی قانونی حیثیت سے متصادم ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر زیر التواء ہے۔

1948ء کی قرارداد 47 سے شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں واضح طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت پر زور دیتی ہیں۔کوئی دو طرفہ یا یکطرفہ اعلامیہ اس بین الاقوامی وعدے کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ماہرین نے بھارت کے موقف میں تضاد کی نشاندہی کی ہے کیونکہ نئی دہلی نے خود طالبان کو پہلے دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا اور اگست 2021ء میں کابل پر قبضے کے بعد ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ بھارت جو کبھی طالبان کی حکومت کو ناجائز اور دہشت گرد کہتا تھا، اب اس کے ساتھ مشترکہ بیانات جاری کر رہا ہے تاکہ کشمیر کے بارے میں اپنے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا سکے۔ اس کے علاوہ طالبان انتظامیہ کو خود اقوام متحدہ یا عالمی حکومتوں کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی۔ لہذا طالبان حکومت کی طرف سے کوئی بھی توثیق یا بیان جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے میں کوئی قانونی یا سفارتی وزن نہیں رکھتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے جھوٹے بیانیے کو بار بار پیش کرنے کے لیے اس طرح کی کوششیں اس کی جاری مہم کا حصہ ہیں تاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی اصل صورتحال کے حوالے سے گمراہ کیا جا سکے۔ مسلسل فوجی قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جمہوری حقوق سے انکار زمینی صورتحال کے بارے میں بھارت کے بلند و بانگ دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ کشمیر کے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا