ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی، 19 بھارتی سپانسرڈ خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اکتوبر2025ء ) سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 19 بھارتی سپانسرڈ خوارج ہلاک ہوگئے۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق ہندوستانی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خارجیوں کی موجودگی کی اطلاع پر 7 اور 8 اکتوبر 2025ء کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے پاکستان کے ضلع اورکزئی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، آپریشن کے دوران ہمارے فوجیوں کی مؤثر کارروائی کی وجہ سے 19 بھارتی سپانسرڈ خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا۔
ملٹری ترجمان نے بتایا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف جن کی عمر 39 سال، ساکن ڈسٹرکٹ راولپنڈی نے سیکنڈ ان کمانڈ میجر طیب راحت، عمر 33 سال، ساکن ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے ساتھ فرنٹ سے اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا۔(جاری ہے)
آئی ایس پی آر سے معلوم ہوا ہے کہ قربانی دینے والے 9 بہادر سپاہیوں میں نائب صوبیدار اعظم گل (عمر 38 سال، ساکن ڈسٹرکٹ خیبر)، نائیک عادل حسین (عمر 35 سال، ساکن ڈسٹرکٹ کرم)، نائیک گل امیر (عمر 34 سال، ڈسٹرکٹ ٹانک)، لانس نائیک شیر خان (عمر 31 سال، ڈسٹرکٹ ٹانک کا رہائشی)، لانس نائیک شیر خان (عمر: 31 سال، ضلع کرم کا رہائشی) شامل ہیں۔
اسی طرح لانس نائیک فراز (عمر 32 سال، رہائشی ضلع مانسہرہ)، لانس نائیک ارشاد حسین (عمر 32 سال، رہائشی ضلع کرم)، سپاہی طفیل خان (عمر 28 سال، رہائشی ضلع مالاکنڈ)، سپاہی عاقب علی (عمر 23 سال، رہائشی ضلع صوابی)، سپاہی محمد زاہد (عمر 23 سال، ضلع کرم کا رہائشی) بھی شہید ہوئے۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی بھارتی سپانسرڈ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے، کیوں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارتی سپانسرڈ سکیورٹی فورسز ساکن ڈسٹرکٹ لانس نائیک رہائشی ضلع
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔