جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی نے سرینگر میں نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بی جے پی ایک نشست جیتنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر دھاندی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں انتخابات میں ایک بھی نشست ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ (یعنی ووٹ خریدنے یا وفاداریاں بدلوانے) کے بغیر نہیں جیت سکتی۔ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے امیدواروں نے راجیہ سبھا انتخابات کے لئے نامزدگیاں داخل کیں جو 24 اکتوبر کو ہونے والے ہیں، یہ نشستیں فروری 2021ء سے خالی تھیں۔ عمر عبداللہ نے سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بی جے پی ایک نشست جیتنے کی پوزیشن میں بھی نہیں، ان کے پاس 28 ایم ایل ایز ہیں، جبکہ جیتنے کے لئے 30 ووٹ درکار ہیں، اگر وہ تین نشستیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو وہ صرف پیسے، دباؤ اور ایجنسیز کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا یہ انتخابات واضح کر دیں گے کہ کون بی جے پی کا دوست ہے اور کون مخالف۔ ان کا اشارہ ان سات اراکین اسمبلی کی طرف تھا جن میں پی ڈی پی کے تین، پیپلز کانفرنس کے سجاد لون، آزاد رکن خورشید شیخ اور عام آدمی پارٹی کے جیل میں بند رکن معراج ملک شامل ہیں۔ عمر عبداللہ کے مطابق جو کوئی بی جے پی کو ووٹ دے گا یا ووٹنگ سے غیر حاضر رہے گا، وہ بی جے پی کا دوست سمجھا جائے گا کیونکہ چار میں سے تین نشستوں پر بی جے پی کے خلاف امیدوار ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے فیصلے پر بھی تبصرہ کیا جس نے چوتھی نشست پر مقابلہ کرنے سے انکار کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کانگریس کے پاس بہترین موقع تھا، مگر انہوں نے مختلف سوچ اپنائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر عبداللہ بی جے پی کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں