Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:57:20 GMT

بیوی رات کو سانپ بن کر ڈراتی ہے: شوہر کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع ستابور سے ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی رات کے وقت سانپ بن جاتی ہے اور اسے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ واقعہ میراج نامی شخص نے عوامی شکایتی پروگرام کے دوران رپورٹ کیا، اس پروگرام میں عام طور پر لوگ بجلی، پانی، سڑکوں اور راشن کارڈ جیسی شکایات پیش کرتے ہیں، تاہم میراج کی شکایت نے سب کو حیران کر دیا۔

میراج نے اپنی تحریری درخواست میں الزام لگایا کہ اس کی بیوی نے اسے ایک بار کاٹ بھی لیا تھا اور وہ کئی بار رات کے وقت جاگ کر مزید حملوں سے بال بال بچا۔

اس نے حکام سے فوری تحفظ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میری جان خطرے میں ہے۔

ضلع مجسٹریٹ نے اس غیر معمولی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور مقامی پولیس کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

ابتدائی طور پر حکام نے اس معاملے کو ممکنہ ذہنی دباؤ یا نفسیاتی مسئلہ قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حقائق کی مکمل جانچ کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بظاہر یہ معاملہ نفسیاتی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ درخواست گزار نے باضابطہ طور پر تحفظ کی درخواست دی ہے، اس لیے ہم معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

خبر سوشل میڈیا پر وائل ہوتے ہی صارفین کے درمیان دلچسپ تبصروں اور میمز کا طوفان آگیا۔

ایک صارف نے مذاق میں لکھا کہ پتہ نہیں کتنے لوگوں کو ڈس چکی ہوگی، جبکہ دوسرے نے طنزاً کہا کہ کہیں تم نے اس کی ناگ منی تو نہیں چھپا لی؟ ایک اور صارف نے مشورہ دیا کہ تم بھی سانپ بن جاؤ، بچنے کا یہی طریقہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں صدیوں پرانی کہانیوں اور عقائد کے مطابق ناگن یا روپ بدلنے والے سانپوں پر یقین آج بھی کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

The post بیوی رات کو سانپ بن کر ڈراتی ہے: شوہر کا دعویٰ appeared first on M News.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری