اب تک امیر تحریک لبیک اور ان کے بھائی کا کسی کو علم نہیں، حقائق سامنے آنے چاہئیں، مفتی منیب الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اپنے ایک مشترکہ بیان میں علماء اہلسنت نے کہا کہ کسی بھی دانش مند اور ذمے دار حکومت کا اپنے عوام کے ساتھ رویہ ایسا نہیں ہوتا، حکومت کے مناصِب ہمیشہ ذمے داری، تحمل اور برداشت کا تقاضا کرتے ہیں، ایک مدبِر حاکمِ وقت کو کبھی بھی مغلوب الغضب نہیں ہونا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ علماء اہلسنت نے کہا ہے کہ مرید کے میں حکومت نے جس بہیمانہ طریقے سے تحریکِ لبیک پاکستان کی ریلی سے نمٹا، ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس سارے معاملے کی تحقیق کرے اور اس ظالمانہ سانحے کے ذمے داروں کا تعین کرے اور قرارِ واقعی سزا تجویز کرے، اب تک امیر تحریک لبیک پاکستان اور ان کے بھائی کا کسی کو علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں، اس لیے حقائق سامنے آنے چاہییں، سچ کو عارضی طور پر تو چھپایا اور دبایا جاسکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ پنجاب حکومت نے اگر دانش مندی اورحکمت کا مظاہرہ نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت آنے والے انتخابات میں چکانی پڑ سکتی ہے۔
اپنے ایک مشترکہ بیان میں مفتی منیب الرحمن، شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی، علامہ احمد علی سعیدی، علامہ سید مظفر شاہ قادری، علامہ مفتی عابد مباک المدنی، علامہ مفتی وسیم اختر المدنی، علامہ شاداب رضا قادری، علامہ نذیر جان نعیمی، علامہ صاحبزادہ فرید الدین قادری، علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور، علامہ عبداللہ نورانی، علامہ سید ریاض اشرفی، علامہ قاری عبدالقیوم محمود، علامہ مفتی اویس نقشبندی,علامہ سید نذیر حسین شاہ,علامہ ابرار احمد قادری,علامہ عبداللہ ضیائی,علامہ سید محمد علی قادری, علامہ اویس رفیق الحسنی مفتی سید محمد بلال بخاری، مولانا سید طاہر غضنفر شاہ، مولانا احمد ربانی، علامہ بلال سلیم قادری، مولانا صابر نورانی، مولانا ثروت اعجاز قادری، مولانا نذیر احمد رضوی، مولانا ابوبکر گورمانی، مولانا توقیر مصطفائی اور دیگر نے کہا کہ 13 اکتوبر کی شب پچھلے پہر مریدکے میں حکومت نے جس بہیمانہ طریقے سے تحریکِ لبیک پاکستان کی ریلی سے نمٹا، ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی مصدقہ اعداد و شمار میسر نہیں ہیں تاہم جو بھی لوگ شہید ہوئے، ان کی مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعا کرتے ہیں، ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ دونوں طرف کے زخمیوں کا ریاست و حکومت کی طرف سے مناسب علاج کا بندوبست کیا جائے اور جاں بحق ہونے والوں کو دیت ادا کی جائے، پنجاب حکومت نے اگر دانش مندی اور حکمت کا مظاہرہ نہ کیا، تو انہیں اس کی قیمت آنے والے انتخابات میں چکانی پڑ سکتی ہے کیونکہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند، ملک کے اندر اور باہر اہلِ سنت و جماعت کی ہمدردیاں تحریکِ لبیک کے ساتھ ہیں، تحریک لبیک پاکستان آئین و قانون کے تحت قائم ایک دینی سیاسی جماعت ہے جو پاکستان الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اور قومی انتخابات میں حصہ لیتی ہے، آئینِ پاکستان کو تسلیم کرتی ہے اور قانون کی پابند ہے اور ہونا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لبیک پاکستان علامہ مفتی علامہ سید حکومت نے کرتے ہیں
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔