ایوارڈ شو میں سجل علی کا یاسر حسین کو کرارا جواب؛ ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
شوبز انڈسٹری میں ایوارڈ کی تقسیم کی تقریبات میں جہاں چمک دمک، گلیمر اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں، وہیں کبھی کبھار ایسے یادگار لمحات بھی جنم لیتے ہیں جو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل جاتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی ہوا جب اداکارہ سجل علی ایوارڈ دینے اسٹیج پر آئیں اور میزبان یاسر حسین نے کچھ مزاحیہ جملے ان کی جانب پھینکے تھے جو بڑھ کر ہلکی پھلکی نوک جھونک میں تبدیل ہوگئے۔
جب یاسر حسین اپنی تئیں سجل علی کو تنگ کرنے کے لیے جملوں کی برسات کر بیٹھے اور سمجھ رہے تھے کہ معرکہ مار لیا تو عین اسی وقت سجل علی مسکرائیں اور جواب دیا کہ آپ کے اسکرپٹ کی ساری لائنز ختم ہوگئی ہیں یا ابھی کچھ باقی ہیں؟
یہ جملہ سنتے ہی ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا اور یاسر حسین کے پاس بھی اس غیر متوقع اور حاضر جوابی پر خاموش رہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔
جملوں کے اس تبادلے کی ویڈیو جیسے ہی وائرل ہوئی مداح بھی دو گروپ میں بٹ گئے۔ کسی نے لکھا کہ سجل نے بالکل ٹھیک کہا، مذاق کی بھی حد ہوتی ہے۔
ایک صارف نے کمنٹ کیا کہ یہ لمحہ awkward yet iconic تھا، ماہر اداکارہ نے سین بچا لیا!
کچھ نے کہا یاسر نے حد سے زیادہ مزاح کیا، تو کچھ کا کہنا تھا کہ سجل نے پروفیشنل باڈی لینگویج سے ماحول سنبھال لیا۔
یاد رہے کہ سجل علی نے اپنے ڈرامے ‘زرد پتوں کا بن’ پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی جیتا تھا۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
بھارت نے کہا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی طرف سے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست موصول ہوگئی ہے، اور اب عدالتی اور اندرونی قانونی عمل کے تحت اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بھارت بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفاد، بالخصوص امن، جمہوریت، استحکام اور شمولیت، کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہونے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں رندھیر جیسوال نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ جاری عدالتی اور داخلی قانونی عمل کے مطابق لیا جا رہا ہے۔
https://Twitter.com/TheTikaKar/status/1993711455557095808
’ہم بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفادات کے لیے پرعزم ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعمیری انداز میں مصروفِ عمل رہیں گے۔‘
بنگلہ دیش نے پہلی بار گزشتہ برس دسمبر میں اور پھر حال ہی میں شیخ حسینہ کو بین الاقوامی کرائم ٹربیونل نے جولائی 2024 کے مظاہروں سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد یہ درخواست بھیجی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ بھارت کے لیے باعث پریشانی کیوں؟
آئی سی ٹی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 2 قریبی ساتھیوں کو بھی سزا سنائی ہے، سابق وزیرِداخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت اور وعدہ معاف گواہ بن جانیوالے سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو ’مسلّمہ طور پر متعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر منتخب عبوری حکومت کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے جس کا کوئی جمہوری جواز نہیں۔
مزید پڑھیں:
اپنے بیان میں شیخ حسینہ نے کہا کہ سزائے موت کے اس مکروہ مطالبے میں عبوری حکومت کے انتہاپسند عناصر کی کھلی قاتلانہ نیت ظاہر ہوتی ہے، جو بنگلہ دیش کی آخری منتخب وزیرِاعظم کو راستے سے ہٹانا اور عوامی لیگ کو ایک سیاسی قوت کے طور پر مٹانا چاہتے ہیں۔
’ڈاکٹر محمد یونس کی افراتفری، تشدد اور سماجی پسماندگی کی شکار حکومت کے تحت پسنے والے لاکھوں بنگلہ دیشی اپنے جمہوری حقوق چھیننے کی اس کوشش میں دھوکا نہیں کھائیں گے۔‘
مزید پڑھیں:
بدھ کو بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس سے قبل بھیجی گئی حوالگی کی درخواست کا ’کوئی جواب‘ نہیں دیا تھا، تاہم اب انہیں توقع ہے کہ حالات بدلنے کے باعث بھارت جواب دے گا۔
امورِ خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ نئی دہلی ڈھاکا کی درخواست کے ایک ہفتے کے اندر جواب دیدے گی، لیکن امید ہے کہ جواب ضرور ملے گا۔
قانونی مشیر آصف نذرول نے بھی کہا کہ عبوری حکومت ’مفرور مجرموں‘ کی واپسی کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانیت بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس شیخ حسینہ عبوری حکومت عوامی لیگ فوجداری عدالت کرائم ٹربیونل