Jasarat News:
2025-11-29@06:09:53 GMT

تحریکِ لبیک پر ریاستی تشدد قابلِ مذمت، علما اہلسنت

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)علماء اہلسنت نے کہا ہے کہ مرید کے میں حکومت نے جس بہیمانہ طریقے سے تحریکِ لبیک پاکستان کی ریلی سے نمٹا، ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس سارے معاملے کی تحقیق کرے اوراس ظالمانہ سانحے کے ذمے داروں کا تعین کرے اور قرارِ واقعی سزاتجویز کرے۔ اب تک امیر تحریک لبیک پاکستان اور ان کے بھائی کا کسی کو علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں، اس لیے حقائق سامنے آنے چاہییں، سچ کو عارضی طور پر تو چھپایا اور دبایا جاسکتا ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ پنجاب حکومت نے اگر دانش مندی اورحکمت کا مظاہرہ نہ کیا ، تو انھیں اس کی قیمت آنے والے انتخابات میں چکانی پڑ سکتی ہے۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ، شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی ، شیخ الحدیث علامہ احمد علی سعیدی ،علامہ سید مظفر شاہ قادری علامہ لیاقت حسین اظہری ، علامہ مفتی عابد مباک المدنی، علامہ مفتی وسیم اختر المدنی،علامہ شاداب رضا قادری ، مولانا بشیر فاروق قادری ،علامہ ریحان امجد نعمانی ،علامہ مفتی ندیم اقبال سعیدی اور دیگر نے کہا کہ 13اکتوبر کی شب پچھلے پہر مرید کے میں حکومت نے جس بہیمانہ طریقے سے تحریکِ لبیک پاکستان کی ریلی سے نمٹا، ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علامہ مفتی

پڑھیں:

نورمقدم کیس: سینیٹ کمیٹی کی جسٹس باقر نجفی کے ریمارکس کی شدید مذمت

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251128-01-16
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک )سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو جسٹس علی باقر نجفی کے اس بیان کی شدید مذمت کی اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے جو ایک روز قبل نور مقدم کیس سے متعلق سامنے آیا تھا۔ جسٹس علی باقر نجفی جو اب وفاقی آئینی عدالت کا حصہ ہیں، نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی ایک ’برائی‘ کا نتیجہ ہے، جسے ’لونگ ریلیشن شپ‘ (یعنی 2غیر شادی شدہ افراد کا ایک ساتھ رہنا)کہا جاتا ہے۔ کمیٹی نے آج کے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ ’جب خواتین کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح پہلے ہی شرمناک حد تک کم ہے، تو اگر ایک جج خود اس طرح کی بات کرے تو سزا کی شرح کا کیا بنے گا؟‘۔کم سزا کی شرح کے باعث کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرلز، پراسیکیوٹر جنرلز، پولیس حکام اور متعلقہ تمام اداروں کو طلب کر لیا۔

سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں رواں برس خواتین پر تشدد کے 20 ہزار واقعات رپورٹ
  • پی ٹی آئی خواتین کارکنوں پر مرد پولیس کا تشدد انتہائی شرمناک ہے‘ زین شاہ
  • اسلامی تحریک گلگت بلتستان میں کسی سطح پر کوئی اختلاف نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال سے رابطوں کے معاملے پر اسلامی تحریک میں اختلافات
  • پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک، ریاستی و عوامی مفاد مقدم رکھے: عطاء تارڑ
  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ، جاوید قصوری
  • نورمقدم کیس: سینیٹ کمیٹی کی جسٹس باقر نجفی کے ریمارکس کی شدید مذمت
  • شہباز شریف نے میثاقِ جمہوریت کی دعوت دی، عطا تارڑ
  • چین کے ساتھ ناردرن سی روٹ کو ترقی دیں گے‘روس
  • اداکارہ ایشوریا رائے سے نکاح کے متعلق مفتی عبدالقوی کے دعوے نے سب کو حیران کر دیا