سعودی عرب: سیاحت و مہمان نوازی کے شعبے میں اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
قومی ادارہ برائے تعلیمی پیشہ ورانہ ترقی نے سیاحت اور مہمان نوازی کی صنعت میں خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پروگرام وزارتِ سیاحت کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی قدرتی حسن سے مالامال وادی رازَن سیاحت کا نیا مرکز بن گئی
اس پروگرام کا مقصد قومی سطح کے اہم شعبوں میں پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینا اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
جمعرات سے شروع ہونے والے اس پروگرام کے تحت مختلف مضامین اور تعلیمی سطحوں کے اساتذہ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے سے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کر سکیں گے اور یہ سمجھ سکیں گے کہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں کس طرح کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
پروگرام کا ایک اہم پہلو اساتذہ کو یہ تربیت دینا ہے کہ وہ سعودی عرب کے تاریخی، قدرتی اور ثقافتی سیاحتی وسائل کو تدریس میں مؤثر انداز سے شامل کر سکیں، تاکہ طلبہ میں قومی شناخت اور فخر کا احساس مزید مضبوط ہو۔
یہ اقدام ادارے کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف سرکاری و نجی شعبوں کے ساتھ شراکت داریوں کے ذریعے تعلیمی طریقہ کار کو بہتر بنانا اور اساتذہ کے پیشہ ورانہ مواد کو مزید مالامال کرنا مقصود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سیاحتی شعبے میں ’سعودائزیشن‘ کے نئے قواعد منظور
یہ پروگرام وزارت تعلیم کے اس ہدف کی بھی تکمیل کرتا ہے جس کے تحت سعودی شہریوں کی مہارتوں میں اضافہ کرکے انہیں پائیدار ترقی کے اہداف میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اساتذہ کی تربیت خصوصی پروگرام سعودی عرب سیاحت مہمان نوازی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اساتذہ کی تربیت خصوصی پروگرام سیاحت مہمان نوازی وی نیوز مہمان نوازی پروگرام کا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔