اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری ایئرفورس کے 7 بی ٹو بی بمبار طیاروں نے ایران کیجانب پرواز کی، سو سے زائد لڑاکا طیارے بھی انکے ہمراہ تھے اور ایران پر 14 بم گرا کر اسکی ایٹمی ٓصلاحیت ختم کردی۔ انکا کہنا تھا کہ ایران کیلئے دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، ایران دو ماہ میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تھا، ہم نے اہم ایرانی جوہری تنصیبات پر 13 بم گرائے، ہم نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ اسرائیل معاہدے پر کہا ہے کہ آج صرف جنگ کا نہیں، دہشت گردی و انتہاء پسندی کا بھی خاتمہ ہوا، آج مشرقِ وسطیٰ میں نئے دورِ امن کا آغاز ہے، عرب و اسلامی ممالک امن کے شراکت دار ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ پر معاہدہ مشرق وسطیٰ کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے، آج 20 زندہ اسرائیلی قیدیوں اور 26 کی باقیات کو دو سال بعد اسرائیل کے حوالے کیا گیا، یہ اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک شاندار کامیابی ہے کہ اتنے سارے ممالک امن کے شراکت دار بن کر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، آنے والی نسلیں اس لمحے کو یاد رکھیں گی، جب سب کچھ بدلنا شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور مسلمان ممالک کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں، ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ امن محض ایک خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے، جسے ہم تعمیر کر سکتے ہیں۔

تقریر کے دوران اسرائیلی اپوزیشن کے ایک رکن نے امریکی صدر کے خلاف احتجاج کیا، تاہم سکیورٹی نے اسے باہر نکال دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صرف جنگ کا نہیں، دہشت گردی و انتہاء پسندی کا بھی خاتمہ ہوا ہے، آج مشرقِ وسطیٰ کے نئے دورِ امن کا آغاز ہے، عرب و اسلامی ممالک امن کے شراکت دار ہیں، عرب و اسلامی ممالک نے حماس پر دباؤ ڈال کر اہم کردار ادا کیا، مشرقِ وسطیٰ جلد ایک شاندار اور خوشحال خطہ بننے جا رہا ہے، آج بندوقیں خاموش اور مستقبل روشن نظر آرہا ہے، ہماری امریکی انتظامیہ نے آٹھ ماہ میں آٹھ جنگیں رکوائیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو امریکی تاریخ کے بہترین امریکی وزیر خارجہ بنیں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ سات اکتوبر کو کبھی نہیں بھولیں گے اور کبھی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے، امریکا ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، دو سال کا تکلیف دہ عرصہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ختم ہوگیا، میدان جنگ میں حاصل کردہ فتوحات کو پورے مشرق وسطیٰ کے لیے امن اور خوشحالی میں بدلا جائے گا، ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے ہم تعمیر کرسکتے ہیں، مجھے جنگیں پسند نہیں اور میں انہیں ختم کرنے میں کامیاب رہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات پر کامیابی سے حملہ کیا، امریکی فوج کا آپریشن انتہائی جدید لڑاکا طیاروں اور ماہر امریکی فوجیوں پر مشتمل تھا، ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی شاندار رہی، ایران میں ایٹمی تنصیبات کا خاتمہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ایئرفورس کے 7 بی ٹو بی بمبار طیاروں نے ایران کی جانب پرواز کی، سو سے زائد لڑاکا طیارے بھی ان کے ہمراہ تھے اور ایران پر 14 بم گرا کر اس کی ایٹمی ٓصلاحیت ختم کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، ایران دو ماہ میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تھا، ہم نے اہم ایرانی جوہری تنصیبات پر 13 بم گرائے، ہم نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے متعلق کہا گیا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے چار سے پانچ سال چاہئیں، لیکن حقیقت میں امریکی جنرل نے عراق میں چار ہفتوں میں داعش کو شکست دی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران سے پہلے روس کے ساتھ ڈیل کرنا ضروری ہے، لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں، ایک طویل اور مشکل جنگ ختم ہوئی، غزہ میں حماس مستقل طور پر ہتھیار ڈال دے گا، اب اپنی توجہ استحکام، سلامتی، وقار اور معاشی ترقی کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عرب ممالک اور مسلمان ممالک سب نے متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا، داعش کو کامیابی سے شکست دی، غزہ جنگ بندی کامیابی سے حاصل کی، برسوں سے اسرائیل مخالف بیانیے کو بدل دیا، لبنان میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں، لبنانی صدر کی ریاستی اسلحہ کنٹرول کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، حزب اللہ جو اسرائیل کو نشانہ بنا رہا تھا، اسے ختم کر دیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہو جائے تو یہ شاندار ہوگا، ہمیں اب اپنی توجہ استحکام، سلامتی، وقار اور معاشی ترقی کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیئے، غزہ میں امن کے قیام میں ہر ممکن تعاون کریں گے، عرب و مسلم ممالک کا غزہ کی محفوظ تعمیرِ نو میں تعاون پر شکریہ ادا کرتا ہوں، میں غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل میں شراکت دار بننا چاہتا ہوں، غزہ کے عوام کے لیے امن اور بحالی ہماری ترجیح ہے، جلد اُن رہنماؤں سے ملاقات کروں گا، جنہوں نے غزہ میں امن ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ میں جنگیں کرانے والا شخص ہوں، جبکہ اس کے برعکس میں جنگیں ختم کرانے والا شخص ہوں، فلسطینی لڑائی کی جگہ امن کا راستہ چن سکتے ہیں، ارادہ ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کا حصہ بن سکوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا آغاز ہے شراکت دار کہ ایران ایران کی نے ایران کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے کر دیا امن کے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل