آئی ایم ایف مشن کے ساتھ پروگرام کے جائزے پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کے اجرا پر معاہدہ اسی ہفتے متوقع ہے۔
منگل کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے اس ہفتے اسٹاف لیول ایگریمنٹ مکمل ہو جائے گا، پاکستان کا 7 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کا دوسرا جائزہ زیر غور ہے، 1.

4 ارب ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرام بھی زیرِ جائزہ ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام نے 2024 میں پاکستان کی معیشت کو استحکام دیا تھا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے اختتام تک گرین پانڈا بانڈ چینی یوان میں جاری کیا جائے گا، اگلے سال بین الاقوامی مارکیٹ میں کم از کم ایک ارب ڈالر کے بانڈ اجرا کا پلان ہے، یورو، ڈالر یا سکوک بانڈز کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے نجکاری پروگرام میں آئندہ مالی سال تیزی کا امکان ہے، نجکاری اقتصادی روڈ میپ کا اہم جزو ہے، پی آئی اے اور تین تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت میں پیش رفت جاری ہے، یورپ اور برطانیہ کے روٹس کھلنے سے پی آئی اے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری تقریباً دو دہائی بعد ملک کا پہلا بڑا لین دین ہوگی، حکومت کو پی آئی اے کے لیے پانچ بڑے ملکی بزنس گروپس کی دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق2025 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور 2026 میں جی ڈی پی گروتھ 4.3 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2025 میں 23.6 فیصد جب کہ 2026 میں 14.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025 میں جی ڈی پی کا 1.8 فیصد متوقع ہے جب کہ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 1.3 فیصد تک آنے کی پیش گوئی ہے۔
آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح 2025 میں 8.3 فیصد اور 2026 میں 7.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان تیل درآمد کرنے والے ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استحکام کے باوجود افراط زر کا چیلنج برقرار ہے۔

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پی ا ئی اے ارب ڈالر پیش گوئی

پڑھیں:

ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے 23 نومبر کے ضمنی انتخابات سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھوں پر انتخابی عمل کو منظم اور پرامن پایا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلا اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔

فافن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عمل درآمد ایک مسلسل مسئلہ رہا، مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب کم از کم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس دیکھے گئے۔

رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 184 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، 98 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں بیلٹ بکس کے تمام 4 مطلوبہ سیل درست حالت میں پائے گئے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 96 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں سیکریسی اسکرین درست طور پر نصب تھیں، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا۔

رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپر جاری کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کیا، مشاہدے کے 29 فیصد بوتھوں پر پریذائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہر شدہ تھے، یہ عمل غیرقانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھا سکتے ہیں۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصد مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے 23 فیصد تک کم رہا، صرف 1 حلقہ ایسا تھا، جہاں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 پولنگ ایجنٹس نے گنتی کے عمل پر اطمینان ظاہر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • پاکستان میں رواں برس خواتین پر تشدد کے 20 ہزار واقعات رپورٹ
  • غزہ معاہدے کی مکمل پاسداری کی، اسلحہ حوالے کرنا قومی مذاکرات سے مشروط ہوگا: حماس
  • رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں اضافہ ریکارڈ
  • ملک بھر میں خواتین سے زیادتی، اغوا و تشدد کے 20 ہزار واقعات رپورٹ، پنجاب سرفہرست
  • ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
  • پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ
  • 54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع: وزیر خزانہ
  • بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والا نایاب سامبر جنگل میں چھوڑ دیا گیا