پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل، 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
آئی ایم ایف مشن کے ساتھ پروگرام کے جائزے پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کے اجرا پر معاہدہ اسی ہفتے متوقع ہے۔
منگل کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے اس ہفتے اسٹاف لیول ایگریمنٹ مکمل ہو جائے گا، پاکستان کا 7 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کا دوسرا جائزہ زیر غور ہے، 1.
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے اختتام تک گرین پانڈا بانڈ چینی یوان میں جاری کیا جائے گا، اگلے سال بین الاقوامی مارکیٹ میں کم از کم ایک ارب ڈالر کے بانڈ اجرا کا پلان ہے، یورو، ڈالر یا سکوک بانڈز کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے نجکاری پروگرام میں آئندہ مالی سال تیزی کا امکان ہے، نجکاری اقتصادی روڈ میپ کا اہم جزو ہے، پی آئی اے اور تین تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت میں پیش رفت جاری ہے، یورپ اور برطانیہ کے روٹس کھلنے سے پی آئی اے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری تقریباً دو دہائی بعد ملک کا پہلا بڑا لین دین ہوگی، حکومت کو پی آئی اے کے لیے پانچ بڑے ملکی بزنس گروپس کی دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق2025 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور 2026 میں جی ڈی پی گروتھ 4.3 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2025 میں 23.6 فیصد جب کہ 2026 میں 14.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025 میں جی ڈی پی کا 1.8 فیصد متوقع ہے جب کہ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 1.3 فیصد تک آنے کی پیش گوئی ہے۔
آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح 2025 میں 8.3 فیصد اور 2026 میں 7.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان تیل درآمد کرنے والے ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استحکام کے باوجود افراط زر کا چیلنج برقرار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پی ا ئی اے ارب ڈالر پیش گوئی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے