آئی ایم ایف کی پاکستان کی معیشت کے حوالے سے آوٹ لک رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق2025 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور2026 میں 4.3 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2025 میں 23.
آئی ایم ایف کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025 میں جی ڈی پی کا 1.8 فیصد اور2026 میں کم ہو کر 1.3 فیصد تک آنے کی پیش گوئی ہے۔
آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح 2025 میں 8.3 فیصد اور 2026 میں 7.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تیل درآمد کرنے والے ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استحکام کے باوجود افراط زر کا چیلنج برقرار ہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف پیش گوئی
پڑھیں:
اقوامِ متحدہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بے نقاب،پاکستان کا اظہارتشویش
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی اس تازہ رپورٹ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے جس میں بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں مسلسل اور منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2800 افراد، جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، بغیر شفاف قانونی عمل کے حراست میں رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تشدد، حراستی اموات، خاندان سے رابطے کی پابندی، گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی، مواصلاتی بلیک آؤٹس اور صحافتی آزادی پر سخت قدغنیں معمول بن چکی ہیں، جبکہ ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے ہیں۔ بھارت بھر میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور ہجومی تشدد میں اضافہ بھی قابلِ تشویش قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جابرانہ پالیسیوں کو ترک کرے، تمام غیر قانونی طور پر زیرِ حراست افراد کو رہا کرے، بنیادی انسانی آزادیوں کی بحالی یقینی بنائے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔