راولپنڈی میں ڈینگی کے تابڑتوڑ حملے جاری، 24 گھنٹوں میں 16 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 16 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال اب تک 14148 افراد کا ڈینگی ٹیسٹ مکمل کیا گیا جبکہ رواں سال مشتبہ 948 ڈینگی کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی نے بتایا کہ 49 مریض اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔
ڈینگی سرویلنس کے دوران 5692088 گھروں کو چیک کیا گیا جس میں سے 1 لاکھ 80 ہزار 266 گھر ڈینگی پازٹیو پائے گئے۔ 1 لاکھ 57 ہزار 1372 اسپاٹ چیک کیے گے جس میں 24 ہزار 292 اسپاٹ ڈینگی پازٹیو نکلے۔
2 لاکھ 4 ہزار 558 مقامات سے ڈینگی لاروا ملا جسے تلف کردیا گیا جبکہ انسدادِ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کی گئیں۔
سٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جواد احمد نے بتایا کہ 4502 ایف آئی آرز درج اور 1857 مقامات سیل کیے گئے۔ اس کے علاوہ 3515 چالان کیے گئے اور 1 کروڑ 9 لاکھ 84 ہزار جرمانہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :