راولپنڈی میں ڈینگی کے تابڑتوڑ حملے جاری، 24 گھنٹوں میں 16 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 16 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال اب تک 14148 افراد کا ڈینگی ٹیسٹ مکمل کیا گیا جبکہ رواں سال مشتبہ 948 ڈینگی کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی نے بتایا کہ 49 مریض اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔
ڈینگی سرویلنس کے دوران 5692088 گھروں کو چیک کیا گیا جس میں سے 1 لاکھ 80 ہزار 266 گھر ڈینگی پازٹیو پائے گئے۔ 1 لاکھ 57 ہزار 1372 اسپاٹ چیک کیے گے جس میں 24 ہزار 292 اسپاٹ ڈینگی پازٹیو نکلے۔
2 لاکھ 4 ہزار 558 مقامات سے ڈینگی لاروا ملا جسے تلف کردیا گیا جبکہ انسدادِ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کی گئیں۔
سٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جواد احمد نے بتایا کہ 4502 ایف آئی آرز درج اور 1857 مقامات سیل کیے گئے۔ اس کے علاوہ 3515 چالان کیے گئے اور 1 کروڑ 9 لاکھ 84 ہزار جرمانہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔