Express News:
2026-07-24@09:54:53 GMT

ڈوڈلسٹن کے پراسرار پیغامات

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

دنیا میں بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سن کرکر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان یقین اور حیرت کے بیچ الجھ جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے حقیقت اور فسانے کے درمیان کوئی باریک سا پردہ ہے،جو اگر لمحہ بھر کے لیے اُٹھ جائے تو سامنے کسی اور جہان کی جھلک دکھا دے۔

جہاں وقت، عقل اور سائنس سب بے بس کھڑے ہوں۔

ڈوڈلسٹن میسجز (The Dodleston Messages) بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے

ایک پرانے انگریزی گاؤں، ایک استاد، ایک کاٹج اور ایک ایسے کمپیوٹر کی داستان جس نے نہ صرف ماضی بلکہ شاید مستقبل سے بھی گفتگو کی۔

 ایک پرانا گھر، ایک عام زندگی، مگر ایک غیر معمولی واقعہ جس کا آغاز ایک عام دن سے لیکن ایک غیر معمولی دریافت بنا۔

سال 1984:

انگلینڈ کے شمال مغربی حصے میں ایک چھوٹااور پرسکون سا گاؤں ، ڈوڈلسٹن۔یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت جیسے سست روی سے بہتا ہے؛پتھروں سے بنے مکانات، پرانی دیواریں، اور خاموش گلیاں۔یہیں ایک نوجوان استاد کین ویبسٹر (Ken Webster) اپنی دوست ڈیبی اوکس (Debbie Oakes) کے ساتھ ایک پرانے مگر خوبصورت کاٹیج میں رہنے لگا۔

زندگی سادہ تھی ،دن اسکول میں گزرتا، شام دوستوں کے ساتھ اور راتیں چولہے کی ہلکی آنچ میں باتوں میں بیت جاتیں۔لیکن وہ گھر، جس کی دیواروں میں صدیوں کی نمی بسی ہوئی تھی،

اپنے اندر کوئی راز چھپائے بیٹھا تھا۔

ایک شام، جب باہر بارش کی بوندیں چھت پر بج رہی تھیں،کین نے اپنا نیا خریدا ہوا BBC Micro کمپیوٹر آن کیا۔یہ وہ دور تھا جب کمپیوٹر عام گھروں تک نہیں پہنچے تھے اور زیادہ تر لوگ ابھی‘‘ڈیجیٹل دنیا’’سے ناواقف تھے۔کین کو یہ کمپیوٹر اسکول سے ایک پراجیکٹ کے لیے ملا تھا۔لیکن جب اُس نے کمپیوٹر کی سکرین پر ایک غیر متوقع اور اجنبی فائل دیکھی،

تو سب کچھ بدل گیا۔

 پہلا پیغام :’’تم کون ہو جو میری دیواروں میں گھس آئے ہو؟‘‘

کین نے فائل کھولی۔اس فائل کے اندر ایک تحریر تھی، مگر وہ آج کی انگریزی نہیں تھی۔الفاظ عجیب تھے ،ایسے جیسے شیکسپیئر کے زمانے کی کوئی تحریر ہو۔اس میں ایک پیغام تھا لیکن عجیب زبان میں۔تحریر کچھ یوں تھی:

’’میں اس گھر میں رہتا ہوں۔ تم کون ہو جو میری دیواروں میں داخل ہوئے ہو؟ تمہارے آلے اور چراغ میرے لیے اجنبی ہیں۔ تمہارے چراغ روشنی دیتے ہیں مگر آگ نہیں۔ تمہارے آلات میرے لیے جادو ہیں۔‘‘

کین نے حیرت سے سکرین دیکھی۔ وہ چند لمحے ساکت رہ گیا۔یہ کون لکھ سکتا ہے؟کوئی دوست مذاق میں شرارت کر رہا ہے؟یا شاید کوئی ہیکنگ؟ یا واقعی کسی ان دیکھی دنیا سے آیا ہوا پیغام؟مگر اُس زمانے میں تو انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔کچھ دن گزرے تو اسی طرز کے مزید پیغامات آنے لگے۔تحریر ہمیشہ اسی پراسرار انداز میں ہوتی۔ہر بار الفاظ اور جملے پرانی انگریزی کے ہوتے۔پھر ایک دن، لکھنے والے نے اپنا نام بتایا ۔

ٹومی وینٹین یا تھامس ہارڈن۔ (Thomas Harden) بعض جگہ وہ خود کو‘‘لوکاس وین مین’’بھی کہتا تھا۔

ایک قدیم نام : پانچ سو سال پرانا شخص۔ٹومی نے بتایا کہ وہ 1520 کے آس پاس اسی زمین پر رہتا تھا۔تب یہ جدید مکان نہیں تھا، بلکہ مٹی اور لکڑی کی چھوٹی سی کھیتوں کے بیچ بنی ایک جھونپڑی نما گھر تھا۔وہ خود کو ایک کسان اور لکڑی کا کاریگر بتاتا تھا۔اُس نے حیرت سے لکھا کہ وہ‘‘روشنی کے ایسے چراغ دیکھتا ہے جن کی آگ ٹھنڈی ہے،

’’اور لوگوں کی ایسی زبان سن رہا ہے جو جادو جیسی ہے ۔ایسے الفاظ سنتا ہے جو اُس کے زمانے کے جادوگر بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘کین نے یہ پڑھا تو اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ہاتھ کانپنے لگے۔یہ سب کیسے ممکن تھا؟

کیا واقعی کوئی پانچ سو سال پرانا شخص اُس کے کمپیوٹر کے ذریعے اس سے بات کر رہا تھا؟

اور اگر ہاں ۔تو کیسے؟

 ایک مکالمہ، صدیوں کے پار

کین نے ایک دن جوابی پیغام لکھا۔سیدھا، سادہ سا جملہ:‘‘تم کون ہو؟ اور یہ کیسے ممکن ہے؟’’

اگلی شام جب اُس نے کمپیوٹر آن کیا تو جواب پہلے سے موجود تھا۔یوں کین اور ٹومی کے درمیان ایک عجیب ساناممکن سا مکالمہ شروع ہو گیا۔کین سوال لکھتا،اور جب وہ سسٹم دوبارہ چلاتا، جواب اُسی پرانی زبان میں ملتا۔لکھنے والا خود کو ‘‘Lucas’’بھی کہتا تھا شاید اُس کے کسی اور نام یا عرفیت کا حصہ۔کوئی ہیکنگ نہیں، کوئی انٹرنیٹ نہیں بس ایک سادہ سا کمپیوٹر، جو جیسے وقت کی تہہ میں اتر کر صدیوں پرانا رابطہ قائم کر چکا ہو۔لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ اُس کی تحریر میں وہی پرانی لسانی ساخت تھی ۔جو واقعی سولہویں صدی میں بولی جاتی تھی۔یہ کوئی عام مذاق نہیں لگتا تھا۔

ٹومی نے بتایا کہ وہ اُس زمانے کا رہنے والا ہے جب چرچ اور بادشاہت کے درمیان تنازعات عروج پر تھے۔وہ لکڑی اور پتھر کے کام میں ماہر تھا، اور اُس کے گاؤں میں اکثر تعلیمی و مذہبی مباحثے ہوتے رہتے تھے۔جو بات حیران کن تھی، وہ یہ کہ اُس کے پیغامات میں استعمال ہونے والے الفاظ اور جملے واقعی سولہویں صدی کی انگریزی کے مطابق تھے ۔وہ طرزِ تحریر جسے صرف ماہر لسانیات ہی سمجھ سکتے ہیں۔کین نے ماہرینِ لسانیات سے رجوع کیا۔انہوں نے کہا:’’یہ تحریر کسی عام آدمی کے بس کی نہیں۔یہ واقعی پرانے زمانے کی ہے۔ یہ اُس دور کی حقیقی انگریزی ہے‘‘۔پھر مستقبل سے بھی آواز آئی ایک نیا موڑ

جیسے ماضی سے بات کرنا ہی کافی نہ ہو،ابھی کین اس راز کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا، کہ ایک دن کمپیوٹر نے ایک نیا پیغام دیا لیکن اس بار نہ پرانی زبان میں، نہ کسی کسان کے انداز میں۔ یہ پیغام سال 2109 سے تھا۔ یہ شخص خود کو ایک ’’ناظر‘‘ (Observer) کہتا تھا،

جو کہتا تھا کہ وہ کین اور ٹومی کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو مانیٹر کر رہا ہے۔

اس نے لکھا:’’تم دونوں ایک تجربے کا حصہ ہو۔ وقت کے بہاؤ کو سمجھنے کی یہ ایک آزمائش ہے‘‘۔لکھنے والے نے کہا:’’ہم تم دونوں کو دیکھ رہے ہیں یہ ایک تجربہ ہے، وقت کی سمجھ کو جانچنے کی کوشش۔تمہارا رابطہ ایک آزمائش ہے‘‘۔

اب معاملہ اور پراسرار ہو گیا۔ایک طرف سولہویں صدی کا انسان، دوسری طرف مستقبل کے لوگ۔یعنی اب نہ صرف ماضی بلکہ مستقبل بھی اس کھیل کا حصہ بن چکا تھا۔

کین خود حیرت میں ڈوب گیا کیا واقعی کین کسی ٹائم ایکسپیریمنٹ کا حصہ بن گیا تھا؟ کیا وہ کسی سائنسی تجربے میں ہے؟یا پھر یہ سب محض کسی نادیدہ ذہن کی تخلیق؟ گھر میں ہونے والی عجیب تبدیلیاں اور پراسرار واقعات کین اور ڈیبی نے نوٹ کیا کہ اب گھر میں کچھ عجیب باتیں اور غیر معمولی واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ دیواروں پر چاک سے بنے عجیب نشانات،کھانے پینے کی چیزیں اور سامان کا اپنی جگہ بدل لینا،اور بعض اوقات کمپیوٹر کا بغیر آن کیے خودبخود چل پڑنا۔کین اور ڈیبی دونوں خوفزدہ بھی تھے اور متجسس بھی۔کیا یہ روحانی مداخلت تھی؟یا واقعی وقت کے دروازے کسی طرح اس چھوٹے سے گاؤں میں کھل گئے تھے؟

ایک رات تو کین نے دیکھا کہ کمپیوٹر کی سکرین پر روشنی خود بخود چمکنے لگی،

اور چند الفاظ ظاہر ہوئے ’’میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں۔ خوفزدہ نہ ہو‘‘۔

ڈیبی اکثر ڈر جاتا، مگر کین کے اندر اب تجسس بڑھ گیا تھا۔

وہ جاننا چاہتا تھا کہ وقت کے اس کھیل میں وہ کہاں کھڑا ہے۔

 The Vertical Plane — کہانی جو دنیا تک پہنچی آخرکار 1989 میں، کین ویبسٹر نے اپنی پوری داستان ایک کتاب کی صورت میں شائع کی

’’The Vertical Plane‘‘۔اس میں اس نے تمام پیغامات، ان کے ترجمے، اور تحقیق شامل کی۔

یہ کتاب آتے ہی تہلکہ مچا گئی۔لوگوں نے کہا کہ شاید یہ‘‘وقت کے سفر کا پہلا ثبوت’’ہے۔

کچھ نے کہایہ کسی روحانی مظہرکا نتیجہ ہے۔

اور کچھ نے کہا،’’یہ ایک نفسیاتی وہم ہے، شاید کسی تنہائی کا نتیجہ‘‘۔اور اسے انسانی ذہن کی اختراعی کہانی قرار دیا۔

لیکن ایک بات سب مان گئے ڈوڈلسٹن کا یہ کیس محض مذاق نہیں لگتا تھا۔پیغامات کی لسانی ساخت، ان کی گہرائی، اور تاریخی تفصیلات نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور

ماہرین کو بھی چکرا دیا۔ ماہرین کی رائے ، فریب یا حقیقت؟

 تحقیق، شک، اور سوالات بعد میں Society for Psychical Research (SPR) کے محققین نے بھی اس کیس پر کام کیا۔انہوں نے کمپیوٹر، سافٹ ویئر، یہاں تک کہ گھر کی دیواروں تک کا معائنہ کیا۔کوئی واضح جواب نہ ملا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سائنس دانوں اور ماہرین نے اس معاملے پر مختلف نظریے پیش کیے۔

کچھ نے کہا کہ شاید کسی نے کمپیوٹر کی میموری میں خفیہ کوڈ ڈالے ہوں اور کسی برقی اثر نے یہ پیغامات پیدا کیے ہوں۔کچھ نے اسے’’پولیٹرگائسٹ ایکٹیویٹی‘‘کہا یعنی روحانی مظاہرسے جوڑا۔اور چند نے کہا کہ شاید یہ سب کین کے اپنے لاشعور کی تخلیق تھی،جس نے تنہائی یا ذہنی دباؤ کے دوران یہ پیغامات پیدا کیے۔مگر ان تمام نظریات کے باوجود،ابھی تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ یہ پیغامات حقیقتاً کہاں سے آئے۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کین کے دوستوں، حتیٰ کہ اس کی شاگردہ ڈیبی نے بھی یہ پیغامات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

تو کیا سب کو وہم ہوا تھا؟ یا واقعی کوئی طاقت وہاں کام کر رہی تھی؟

 وقت کا دروازہ — کھلا یا وہم؟

ٹومی (Lucas) نے اپنے آخری پیغامات میں لکھا کہ’’تمہاری دنیا اور میری دنیا ایک ہی زمین پر قائم ہیں،مگر وقت ہمیں جدا رکھتا ہے‘‘۔

ایک بار اُس نے کہا:’’میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں، مگر چھو نہیں سکتا۔تمہاری آگ ٹھنڈی ہے، مگر روشنی دیتی ہے۔تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے، مگر تم اسے علم کہتے ہو‘‘۔

ایسے جملے پڑھ کر کوئی بھی سوچ میں پڑ جاتا ہے ۔کیا واقعی زمانہ صرف آگے بڑھتا ہے؟

یا کہیں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی لمحے میں بہہ رہے ہیں،بس ہماری آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتیں؟

 ایک ان مٹ معمّا۔ ایک ایسا راز جو آج بھی زندہ ہے ۔آج چالیس سال گزر چکے ہیں،

کین ویبسٹر اب ایک عام اور خاموش زندگی گزار رہا ہے، مگر اُس کی کہانی آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔انٹرنیٹ پر سینکڑوں ویڈیوز، فورمز اور پوڈکاسٹس اس پر بحث کرتے ہیں کہ کیا واقعی ڈوڈلسٹن کا کمپیوٹر وقت کے پار رابطے کا ذریعہ بنا؟’’ڈوڈلسٹن میسجز‘‘آج بھی دنیا بھر کے محققین کے لیے ایک معمّا ہے۔سوشل میڈیا پر اس کے سینکڑوں تجزیے، یوٹیوب ڈاکیومنٹریزاور بحثیں چلتی رہتی ہیں ۔کچھ لوگ اسے‘‘ٹائم ٹریول کا ثبوت’’کہتے ہیں،

کچھ‘‘روحانی تجربہ’’،اور کچھ‘‘ڈیجیٹل وہم’’ اور کچھ اسے انسانی ذہن کی حیرت انگیز طاقت قرار دیتے ہیں۔لیکن جو بھی ہو یہ کہانی اب ایک افسانہ نہیں، بلکہ جدید تاریخ کا وہ ان حل شدہ معمّا ہے۔جو وقت، سائنس اور عقیدے — تینوں کے درمیان ایک پراسرار لکیر کھینچتا ہے۔

مگر سچ شاید وہی ہے جو کین نے اپنی کتاب کے آخر میں لکھا:’’میں نہیں جانتا کہ یہ سب کیا تھا۔مگر اگر وقت ایک دریا ہے،تو شاید اُس رات ڈوڈلسٹن کے اس چھوٹے سے گھر میں میں نے اُس دریا کی ایک لہر کو چھو لیا تھا‘‘۔

 آخر میں ایک سوال جب آپ یہ سب پڑھتے ہیں، تو دل کے کسی کونے میں ایک خیال ضرور ابھرتا ہے کیا واقعی وقت صرف آگے بڑھتا ہے؟ یا کہیں نہ کہیں ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ موجود ہیں؟کیا واقعی وقت کی کوئی حد ہے؟یا ہم سب ایک ہی لمحے کے مختلف گوشوں میں جی رہے ہیں ۔جہاں ماضی کے الفاظ مستقبل کے کمپیوٹر میں اُبھرتے ہیں،اور مستقبل کے لوگ ہمیں مشاہدہ کر رہے ہیں؟شاید ڈوڈلسٹن کا وہ پرانا کاٹیج وقت کے بہاؤ میں ایک ایسا نقطہ بن گیا تھاجہاں صدیاں مل گئیں،اور وقت نے لمحہ بھر کے لیے اپنی خاموش سرحدیں مٹا دیں اور خود اپنا دروازہ ذرا سا کھول دیا تھا،

اور ہم نے ایک لمحے کے لیے اُس کے پار جھانک لیا تھا۔ یہی تو کہانیوں کی خوبصورتی ہے۔ وہ ہمیں یقین اور شک، خواب اور حقیقت کے بیچ لے جاتی ہیں۔ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دنیا صرف وہ نہیں جو ہم دیکھتے ہیں،بلکہ وہ بھی ہے جو وقت، روشنی اور تجسس کے بیچ کہیں چھپی ہوئی ہے۔جہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے، اور صرف تجسس بولتا ہے۔n

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کمپیوٹر یہ پیغامات کمپیوٹر کی کے درمیان کیا واقعی یہ پیغام کہتا تھا کے لیے ا گھر میں کہ شاید رہے ہیں کین اور میں ایک کا حصہ خود کو رہا ہے کے بیچ نے کہا کچھ نے وقت کے کین نے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت