UrduPoint:
2025-11-29@11:30:13 GMT

اعصابی امراض سے ہر سال ایک کروڑ دس لاکھ اموات، ڈبلیو ایچ او

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

اعصابی امراض سے ہر سال ایک کروڑ دس لاکھ اموات، ڈبلیو ایچ او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 اکتوبر 2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ رکن ممالک کو اعصابی بیماریوں کے علاج کے لیے سرمایہ کاری اور نگہداشت کو بڑھانے کی ضرورت ہے جو ہر سال ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہیں۔

اس موضوع پر 'ڈبلیو ایچ او' جاری کردہ پہلی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی یا تین ارب سے زیادہ لوگ اعصابی امراض سے متاثر ہیں۔

فالج، آدھے سر کا درد، گردن توڑ بخار، الزائمر اور کئی طرح کی دماغی کمزوری کا شمار 10 عام عصبی بیماریوں میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ قبل از وقت پیدائش، آٹزم اور اعصابی نظام کے سرطان سے جڑی پیچیدگیاں بھی انہی امراض میں شمار ہوتی ہیں۔ Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جیریمی فیرر نے کہا ہے کہ دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی دماغی صحت کے کسی نہ کسی مسئلے کا شکار ہے تو ایسے میں وہ سب کچھ کرنا بہت ضروری ہے جس سے لوگوں کو درکار طبی سہولیات میں بہتر آ سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا ہے کہ بہت سی اعصابی بیماریاں قابل علاج یا قابل تدارک ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں بالخصوص دیہی اور غریب علاقوں میں لوگوں کو ان سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ دنیا کے ایک تہائی سے بھی کم ممالک نے ان بڑھتی ہوئی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے کوئی قومی پالیسی ترتیب دی ہے۔

عصبی امراض سے بے توجہی

'ڈبلیو ایچ او' کو اس رپورٹ کی تیاری میں اپنے 194 رکن ممالک میں صرف 102 کی جانب سے ہی خاطرخواہ معلومات فراہم کی گئیں جسے ادارے نے اعصابی امراض پر توجہ میں کمی کا مظہر قرار دیا ہے۔

حیران کن طور پر، دنیا کے صرف 63 ممالک ہی ایسے ہیں جن کے پاس عصبی امراض سے نمٹنے کے لیے کوئی قومی پالیسی موجود ہے اور صرف 34 ممالک ان بیماریوں سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ فنڈنگ مختص کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کم آمدنی والے ممالک میں دماغی و عصبی امراض کے ماہرین کی تعداد امیر ممالک کے مقابلے میں 80 گنا کم ہے۔ علاوہ ازیں، اعصابی امراض میں مبتلا بیشتر افراد کے لیے بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ممکن نہیں ہوتی کیونکہ صرف 25 فیصد ممالک ہی ایسے ہیں جنہوں نے عصبی امراض کو 'یونیورسل ہیلتھ کوریج' کا حصہ بنایا ہے۔

کم آمدنی والے ممالک کے بیشر ہسپتالوں میں فالج کے خصوصی یونٹ دستیاب نہیں ہوتے اور بچوں کے لیے عصبی امراض کے علاج کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ ایسی بیشر سہولیات عموماً شہری علاقوں تک محدود رہتی ہیں اور دیہی یا غریب علاقے اس سے محروم ہوتے ہیں۔

دماغی صحت پر سرمایہ کاری

اگرچہ عصبی امراض عموماً تاعمر دیکھ بھال کا تقاضا کرتے ہیں تاہم صرف 46 ممالک ایسے ہیں جہاں نگہداشت فراہم کرنے والوں کے لیے مخصوص خدمات دستیاب ہیں اور صرف 44 ممالک نے ایسے افراد کے لیے قانونی تحفظات وضع کیے ہیں۔

اس طرح غیر رسمی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں (جن میں بیشتر خواتین ہیں) کی خدمات کو نہ صرف سماجی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں کوئی معاونت بھی حاصل نہیں ہوتی۔

'ڈبلیو ایچ او' نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عصبی امراض کو اپنی پالیسیوں میں ترجیح دیں اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج کو فروغ دے کر تمام لوگوں کو ان بیماریوں کی دیکھ بھال تک رسائی دی جا سکتی ہے اور دماغی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور مجموعی طبی نظام کو مضبوط بنا کر ان بیماریوں پر بہتر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ایچ او سے زیادہ

پڑھیں:

شیر افضل مروت نے کے پی ہاوس میں علی امین گنڈا پور سے بیٹے کے ہمراہ ملاقات کا دلچسپ واقعہ سنا دیا 

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )شیر افضل مروت نے انکشاف کیاہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے چھوٹے بیٹے بہرام کے ساتھ علی امین گنڈاپور کو ملنے کے پی ہاؤس گیا تو علی امین نے بیٹے سے پوچھا تمہیں کیا چاہیے، بہرام نے کہا مجھے آئی فون چاہیے تو علی امین نے جیب سے 10 لاکھ روپے نکال کر اسے دیدیئے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور میں ایک خوبی ہے کہ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو جو لوگ امداد کیلئے رابطہ کرتے تھے تووہ لاکھ یا کروڑ کی سستی نہیں برتتے تھے ، ایک مرتبہ میں ان سے ملنے کیلئے کے پی ہاوس گیا، تو میرا چھوٹا بیٹا بہرام خان بھی ساتھ تھا، علی امین نے بہرام کو دیکھ کر کہا کہ بیٹا تمہیں کیا چاہیے،  تو بہرام کہنےلگا کہ مجھے آئی فون چاہیے ، تو علی امین نے جیب سے پانچ ہزار کی دو گڈیاں ، 10 لاکھ روپے نکال کر دے دیئے، میں نے کہا رہنے دیں لیکن وہ نہیں مانے ۔

مبینہ بھرتیوں کا کیس: پرویز الہٰی کا عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ

شیر افضل مروت کا کہناتھا کہ مسئلہ یہ ہوگیا کہ جب بھی میں اور بہرام خان کے پی ہاؤس کے باہر سے گزرتے تو کہتا تھا کہ میں نے علی امین سے ملنا ہے ، علی امین کی بہرام سے فون پر بھی بات ہو جاتی ہے ، میں نے کبھی کسی کی امداد قبول نہیں کی لیکن علی امین کا بہرام کے ساتھ لگاؤ ہے ، جب بھی علی امین بہرام سے ملتا ہے ایک لاکھ سے کم نہیں دیتا تھا، علی امین کنجوس آدمی نہیں ہے ۔ 

شیر افضل مروت نے انکشاف کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور میرے چھوٹے سات سالہ بیٹے سے ملا تو پوچھا کیا لے کر دوں؟
میرے بیٹے نے کہا انکل آئی فون لے دیں۔علی امین گنڈپور نے اسے دس لاکھ روپے دیے۔
میں نے کہا مروت صاحب ماشاء اللہ بڑا سمجھدار بیٹا ہے آپ کا سیدھا آئی فون مانگ لیا۔
شیر افضل… pic.twitter.com/OarareKVNz

— Rauf Klasra (@KlasraRauf) November 26, 2025

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 735 ارب روپے اضافے سے 23 سو ارب ہونے کا خدشہ

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سری لنکا میں سائیکلون ’ڈٹوا‘ کے باعث سیلاب سے 123 اموات، عالمی مدد کی اپیل کردی
  • وزیرداخلہ محسن نقوی کا اچانک اسلام ایئرپورٹ کا دورہ، ویزا ایجنٹ کیخلاف کارروائی کا حکم
  • پیدائش، اموات، نکاح، طلاق کی رجسٹریشن آن لائن ہو گی، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے افتتاح کر دیا
  • 60 لاکھ کی نوکری چھوڑ کر نینی بننے والی خاتون کتنے کروڑ کما رہی ہیں؟
  • تھائی،ملائشیا،انڈونیشیا: دہائیوں بعد بدترین سیلاب کی زد میں، اموات 33 ہوگئیں
  • پاکستان میں موبائل فون کی مینوفیکچرنگ میں 53 فیصد اضافہ
  • پاکستان کسٹمز کی بڑی کارروائی، 55 کروڑ 24 لاکھ روپے کی 188 کلو چرس پکڑلی
  • شیر افضل مروت نے کے پی ہاوس میں علی امین گنڈا پور سے بیٹے کے ہمراہ ملاقات کا دلچسپ واقعہ سنا دیا 
  • موجودہ ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، گورنر اسٹیٹ بینک
  • جنوبی پنجاب میں وبائی مرض سے قیمتی اونٹوں کی اموات