سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مرض اب صرف پاکستان اور افغانستان میں باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پولیو مہم کا آغاز محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی بیٹی آصفہ بھٹو کو قطرے پلا کر کیا تھا، جو اس مہم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کی 1400 یونین کونسلوں میں ایک کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ویکسینیشن کی کوریج 100 فیصد ہو۔ انہوں نے آج دو نومولود بچوں کو خود پولیو کے قطرے پلائے، جبکہ ایک بچے کو وزیر صحت ڈاکٹر عذرا نے قطرے پلائے۔ دونوں نے ویکسینیشن کارڈز پر دستخط بھی کیے۔
انہوں نے کہا کہ جو والدین پولیو ورکرز کو قطرے پلانے سے روکتے ہیں، انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جو یونین کونسل کی سطح پر نگرانی کر رہا ہے۔ جو والدین پولیو ویکسین سے انکار کریں گے، ان کی رپورٹ اس سیل کو بھیجی جائے گی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کریں۔ انہوں نے تمام میڈیا ہاؤسز اور یوٹیوبرز سے کہا کہ وہ اپنے پروگراموں میں پولیو مہم کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بچوں کو کئی بار قطرے پلا چکے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے میڈیا کو ایک خط بھی جاری کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ پولیو کا پیغام ہر ایک تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علماء کرام اور دیگر معروف شخصیات سے بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیاستدانوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ مل کر کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کے ساتھ بچوں کو وٹامن اے کا ڈوز بھی دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پولیو ویکسین میں کوئی مسئلہ ہوتا تو محترمہ بینظیر بھٹو اپنی بیٹی کو نہ پلاتیں۔ رواں سال سندھ میں 9 اور ملک بھر میں 29 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرحدوں سے آنے والے افغان بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلا کر ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا کہ پولیو مہم کے دوران کچھ خامیاں رہی ہیں، لیکن سندھ اور وفاقی حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا سے پولیو کا مرض ختم ہو چکا ہے اور پاکستان کو بھی اسے ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے ایم سی کے اسپتال کے حوالے سے وہ میئر کراچی سے تفصیلات حاصل کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پولیو کے قطرے پولیو ویکسین کیا گیا ہے کہ پولیو بچوں کو
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔