یو اے ای میں فلسطینیوں کے لیے خوراک کے ایک کروڑ پیکٹس کی تیاری کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کے لیے خوراک کے ایک کروڑ پیکٹس کی امدادی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ غزہ کے بچوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، جس کے بعد ایکسپو سٹی میں خوراک پیکنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
امدادی جہاز کے لیے رضاکار 7 دسمبر کو جمع ہوں گے تاکہ غزہ کے بچوں کے لیے فوری امداد تیار کی جا سکے۔ شیخ محمد خود بھی اس ہیومینیٹیرین شپ کے ہمراہ غزہ جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے 8,700 ٹرک اور 16 لاکھ امدادی پیکجز بھیجے ہیں۔ اماراتی مہم الفارس الشہم تھری کے تحت 250 قافلے روانہ کیے گئے، جن میں خصوصی طور پر خواتین اور بچوں کے لیے امدادی پیکجز شامل تھے۔
اس امداد میں خوراک کے ساتھ پانی، انفراسٹرکچر سپورٹ، 33 ایمبولینسیں اور فیلڈ کلینکس بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ غزہ کے عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔