غزہ کی تعمیرِنو کے لیے 70 ارب ڈالر درکار، کئی ممالک امداد کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
غزہ کی تعمیرِنو کے لیے 70 ارب ڈالر درکار، کئی ممالک امداد کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز )اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے نے کہا ہے کہ امریکہ، عرب اور یورپی ممالک سمیت کئی ممالک نے غزہ کے تعمیرنو کے لیے درکار 70 ارب ڈالر کے فنڈز دینے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایک عہدے دار نے منگل کو بتائی ہے۔یو این ڈی پی کے عہدے دار جیکو سیلیئرز نے جنیوا میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پہلے سے ہی ہمیں بہت اچھے اشارے مل چکے ہیں۔
تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس کی دو برس تک جاری رہنے والی جنگ میں تقریبا پانچ کروڑ 50 لاکھ ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے۔اس سے قبل ترکیہ کے صدر رجب طیب ارودغان نے کہا تھا کہ نئے جنگ بندی معاہدے کے بعد وہ عرب ممالک، امریکہ اور یورپ سے غزہ کی تعمیرنو کے لیے درکار مدد کے لیے رابطہ کریں گے۔رجب طیب اردوغان کو یقین ہے کہ تعمیرنو کی تخمینہ لاگت کے لیے امداد آسانی سے مل جائے گی۔
شرم الشیخ سے واپسی پر رجب طیب اردوغان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کو دو ریاستی حل کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے۔اس سے قبل پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کی محفوظ تعمیرِنو میں تعاون کے لیے عرب اور مسلم ممالک کا شکرگزار ہوں۔عرب نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ثالثی سے غزہ میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے نے مشرق وسطی میں ایک تاریخی نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتنے برسوں کی نہ ختم ہونے والی جنگ اور مسلسل خطرات کے بعد، آج آسمان پرسکون ہے، بندوقیں خاموش ہیں، سائرن تھم چکے ہیں، اور سورج ایک ایسی مقدس سرزمین پر طلوع ہو رہا ہے جو بالآخر امن میں ہے، ایک ایسی زمین اور خطہ جو، خدا نے چاہا تو ہمیشہ کے لیے امن میں رہے گا۔ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ کی جنگ کے خاتمے کی ایک بڑی پیش رفت پیر کو اس وقت ہوئی جب حماس نے دو برس کی قید کے بعد اپنے قبضے میں موجود آخری 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا۔اسرائیلی جیل سروس نے تصدیق کی کہ جوابا اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 1968 قیدیوں، جن میں اکثریت فلسطینیوں کی تھی، کو رہا کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار ٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار ‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید پولیس نے سعد رضوی کے گھر چھاپے میں برآمد ہونیوالے قیمتی سامان اور نقدی کی تفصیل جاری کردی لاہور ٹیسٹ کا تیسرا روز ختم، جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 226 رنز درکار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریٹریشن کے وفد کا سی ڈی اے کا دورہ کرکٹ ٹیم کے برعکس رویہ:سلطان آف جوہر ہاکی کپ میں پاک بھارت کھلاڑیوں کا مصافحہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ غزہ کی کے لیے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین